اٹھارہ سالہ ہیکر کا بطور مشیر تقرر

Image caption اوئن نے انٹرنیٹ صارفین کو نیٹ ورکنگ سے متعلق خطرات سے آگاہ کیا

نیوزی لینڈ کی ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے اپنے کارپوریٹ صارفین کو صلاح دینے کے لیے ایک ایسے لڑکے کو نوکری پر رکھا ہے جو کہ ایک بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک کا رکن ہونے کا اعتراف کر چکا ہے۔

ٹیلسٹرا کلیئر نامی فرم کا کہنا ہے کہ سابقہ ہیکر اوئن تھار واکر انٹرنیٹ جرائم کے حوالے سے ان کے صارفین کو مشورے فراہم کرے گا۔

ماضی میں اوئن واکر کا تعلق ایک ایسے گروہ سے رہ چکا ہے جس نے دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی تھی۔ صرف سولہ برس کی عمر میں ہی واکر کو یورپی، امریکی اور خود نیوزی لینڈ کے تفتیشی اداروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم ٹیلسٹرا کلیئر کے ترجمان کرس مرامز کے مطابق ہیکنگ سے تائب ہونے کے بعد اوئن واکر نے متعدد ایسی سیمیناروں سے خطاب کیا ہے جس میں صارفین کو ان کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والے خطرات کے بارے میں بتایا گیا۔ ان کے مطابق ’ اس کا مقصد انہیں بتانا تھا کہ انہیں کس قسم کے سائبر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔

اوئن کو سنہ 2007 میں ہملٹن سے گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے اوئن کو دس ہزار ڈالر جرمانہ تو کیا تھا تاہم انہیں قید کی سزا نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نےگزشتہ برس عدالت کے سامنے سائبر کرائم کے چھ الزامات اور ایک ایسے سائبر جرائم کرنے والےگروہ سے تعلق کا اعتراف کیا تھا جس نے نجی بینک کھاتوں سے کم |ز کم بیس اعشاریہ چار ملین ڈالر چرائے تھے۔

اگرچہ اوئن نے خود لوگوں کے اکاؤنٹ سے رقم نہیں چرائی تھی تاہم انہیں ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے کے لیے اکتیس ہزار ڈالر دیے گئے تھے جس کی مدد سے جرائم پیشہ افراد نے صارفین کے پاس ورڈز اور کریڈٹ کارڈ معلومات تک رسائی پائی تھی۔