وائرس پھیلانےکا الزام، انٹرنیٹ سروس بند

فائل شیئرنگ(فائل فوٹو)
Image caption امریکی حکام نے ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے ناسا حکام کی بھی مدد لی(فائل فوٹو)

امریکی حکام نے کیلیفورنیا میں قائم ایک انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر پر سپیم، وائرس اور بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی سروس بند کر دی ہے۔

امریکی وفاقی تجارتی کمیشن نے پرائسورٹ ایل ایل سی نامی کمپنی کے نیٹ روابط منقطع کرنے کی درخواست کمپنی کے مجرمانہ روابط کے بارے میں ثبوت اکھٹے کرنے کے بعد دی۔

حکام کے مطابق پرائسورٹ نے ’امریکہ میں غیر قانونی، تباہ کن اور نقصان دہ مواد کا مرکز قائم کیا‘۔ پرائسورٹ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے گی۔

وفاقی تجاری کمیشن نے کیلیفورنیا کی سان ہوزے وفاقی عدالت میں پرائسورٹ کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کی ہے جس میں اسے انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی ایک ’بدمعاش‘ کمپنی قرار دیا گیا ہے جو کہ بہت سے’ہائی ٹیک‘ مجرموں کو خدمات فراہم کر رہی تھی۔کمیشن کے الزامات کے مطابق اس کمپنی کو ’بچوں کے جنسی استحصال، سپائی ویئر، وائرس، ٹروجنز، ادویات کی غیر قانونی فروخت اور دیگر ویب فراڈ‘ کی سائٹس چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

امریکی حکام نے اس کمپنی کے خلاف ثبوت ناسا کے کمپیوٹر کرائم ڈویژن، سیمنٹک اور گمشدہ اور استحصال کا شکار بچوں کے قومی مرکز کے علاوہ سپیم ہاس اور شیڈو سرور فاؤنڈیشن جیسے گروہوں کی مدد سے جمع کیے۔ تاہم اپنے بیان میں وفاقی تجارتی کمیشن نے کہا ہے کہ.’اس کی شکایت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ یا شواہد نہیں کہ مذکورہ کمپنی نے درحقیقت کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

تاحال کمیشن اس بات کا پتہ چلانے میں بھی ناکام رہا ہے کہ درحقیقت پرائسورٹ کمپنی کس کی ہے۔ پرائسورٹ کمپنی کے انٹرنیٹ سرور اگرچہ امریکہ میں ہے لیکن یہ بطور کاروبار بیلائز میں رجسٹرڈ ہے جبکہ اس کے اکثر ملازمین کا تعلق مشرقی یورپ سے ہے۔

اسی بارے میں