امریکہ: فائل شیئرنگ پر بھاری جرمانہ

Image caption یہ دوسرا موقع ہے کہ ریکارڈ کمپنیوں نے جیمی ریسیٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا

امریکہ میں کمپیوٹر فائلز کی غیرقانونی ’شیئرنگ‘ کے عدالت تک پہنچنے والے واحد مقدمے میں ملزمہ خاتون کو انیس لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی ریاست مینیسوٹا میں جیوری نے بتیس سالہ جیمی تھامس ریسیٹ کو موسیقی کے جملہ حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا اور کہا کہ وہ ریکارڈ انڈسٹری کو ہرجانہ ادا کریں۔

جیمی ریسیٹ پر غیرقانونی طور پر شیرل کرو اور گرین ڈے جیسے گلوکاروں اور موسیقارگروپوں کے چوبیس گانے شیئر کرنے کا جرم ثابت ہوا جبکہ ان پر سترہ سوگانے غیر قانونی طور پر شیئر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

جیوری کے فیصلے کے بعد ملزمہ نے کہا کہ یہ جرمانہ ’مضحکہ خیز‘ ہے۔ان کے وکلاء کے مطابق جیمی پر غیرقانونی فائل شیئرنگ کا الزام صحیح نہیں اور ممکن ہے کہ یہ کام ان کے سابق شوہر کے بچوں نے کیا ہو۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ ریکارڈ کمپنیوں نے جیمی ریسیٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کے خلاف پہلا مقدمہ بے نتیجہ رہا تھا۔

امریکی ریکارڈنگ انڈسٹری کی ایسوسی ایشن کی ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنیاں جرمانے کی رقم سے کہیں کم پر عدالت سے باہر تصفیہ کرنے کو تیار ہیں۔ کارا ڈگورتھ نے کہا کہ ’ ہم ابتداء سے ہی اس مقدمے کو نمٹانا چاہتے ہیں اور ہم اب بھی اس کے لیے تیار ہیں‘۔.ماضی میں اس قسم کے مقدموں کا تصفیہ اوسطاً پندرہ سو پاؤنڈ فی کس ہرجانے پر ہوا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ جیمی ریسیٹ اس جرمانے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ جرمانہ ادا کرنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ ’وہ مجھ سے یہ کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے‘۔

اسی بارے میں