چہرے کے تاثرات ثقافت سے جڑے

چہرے کے تاثرات
Image caption مشرقی ایشیاء کے لوگ خوف کو حیرانگی اور ناخوش گواری کو غصہ سمجھتے ہیں

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا کی مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ چہرے کے تاثرات کو مختلف طریقوں سے سمجھتے ہیں۔ تحقیق میں مشرقی ایشیاء سے حصہ لینے والے لوگوں نے آنکھوں اور مغربی ایشیاء کے لوگوں نے پورے چہرے کے ذریعے تاثرات کو جاننے کی کوشش کی۔

یہ تحقیق بائیولوجی جرنل چیلینجز میں شائع ہوئی ہے جس کا مقصد تھا کہ دنیا بھر میں چہرے کے تاثرات کو سمجھا جاتا ہے۔

گلاسگو یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں شریک مشرقی ایشیائی لوگوں کے لیے چہروں کے کچھ تاثرات میں تمیز کرنا بہت زیادہ مشکل تھا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مغربی ایشیائی لوگوں کے برعکس مشرقی ایشیائی لوگ چہروں کے تاثرات جیسے خوف کو حیرانگی اور ناخوش گواری کو غصہ سمجھتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق چہروں کے تاثرات کو سمجھنے میں غلطی اس لیے ہوتی ہے کہ مختلف ثقافتوں کے لوگ چہرے کے تاثرات کو جاننے کے لیے چہرے کے مختلف حصوں کو منتخب کرتے ہیں۔

مشرقی ایشیائی لوگ تاثرات کو جاننے کے لیے آنکھوں کی طرف جبکہ مغربی ایشیائی لوگ آنکھوں سمیت پورا چہرہ دیکھتے ہیں۔یونیورسٹی آف گلاسگو کے ڈاکٹر کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کے تاثرات معلوم کرنے کا طریقہ دنیا کی مختلف ثقافتوں میں مختلف ہے ۔

تحقیق میں شامل دونوں گروپوں کے تیرہ تیرہ لوگوں کو چہرے کے تاثرات جاننے کےلیے سات مختلف خاکے دیے گئے تھے جن میں خوشی، غم، کسی تاثر کے بغیر، ناراض، ناخوشگواری، خوف زدہ اور حیران ہونے جیسے تاثرات شامل تھے۔

تحقیق میں شامل لوگوں کی آنکھوں کی حرکت کو مانیٹر کیا گیا کہ وہ تاثرات کو جاننے کے لیے خاکے کس حصے کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔

مشرقی ایشیائی لوگوں کے لیے چہرے کے تاثرات جاننے کے لیے آنکھوں کی طرف دیکھنا ضروری ہے جبکہ مغربی ایشیائی لوگوں کے مطابق منہ کاحصہ اہم ہے۔

اسی بارے میں