سپر پاور:انٹرنیٹ پر خصوصی سیزن

بیس سال قبل ایک برطانوی انجینئر دنیا کو تبدیل کرنے کنارے پر تھا۔ ٹم برنرز لی اس منصوبے کو آخری شکل دے رہا تھا جسے آج ہم ’ورلڈ وائیڈ ویب‘ کے نام سے جانتے ہیں اور وہ خود یہ مانتے ہیں کہ اس وقت کوئی بھی اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔

آٹھ مارچ کو ریڈیو، ٹی وی اور ویب پر بی بی سی کے دو ہفتے جاری رہنے والے سیزن کا آغاز ہو رہا ہے جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ یہ ایجاد کس طرح ہماری زندگیاں بدل رہی ہے۔

سپر پاور: انٹرنیٹ کی طاقت پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

یہ گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلی پر نظر ڈالنے اور یہ سوچنے کا موقع ہے کہ ہم کتنا آگے آئے ہیں اور ہمیں کتنا آگے جانا ہے۔

ہمارے کچھ سامعین، ناظرین اور قارئین کے لیے ویب ممکنہ طور پر زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے جبکہ کچھ نے ابھی اس کا صحیح ذائقہ نہیں چکھا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ آپ کا تجربہ کیا ہے ہمیں امید ہے کہ یہ سیزن ان سنی کہانیوں کو سامنے لا کر آپ کو ایک نیا نقطۂ نظر فراہم کرے گا۔

ہم نے اس سیزن کو سپر پاور کا نام دیا ہے اور ہمارے خیال میں یہ نام گزشتہ دو دہائیوں میں پیش آنے والے واقعات سے متناسب ہے۔ اس وقت ’آہنی پردہ‘ ہٹ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آخری نصف میں حاوی رہنے والی طاقت کی بنیاد پر شراکت کا عمل ختم ہو چکا تھا۔ دنیا کی سپر پاورز میں تبدیلی آ رہی تھی اور نئی سپر پاورز ابھر رہی تھیں۔

اس سب کے پس منظر میں ویب ابھرا اور اس نئے کینوس پر اس کا اثر شاید ابھی شروع ہی ہوا ہے۔

سپر پاور ایک موقع ہے ان تبدیلیوں کو جانچنے کا اور اس سوال کا کہ اس کا فائدہ کسے ہوا اور کون اس نئی طاقت کے استعمال سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟

اس کی ایک مثال علم کی تقسیم کی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ معلومات روایتی طور پر طاقت بانٹتی ہیں اور یہ کہ ویب وہ پہلا ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہر کوئی اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ تاہم اگر آپ اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کو اس تک رسائی چاہیے۔

ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں کسی کے پاس تو سب کچھ ہے تو کوئی ہر چیز سے محروم۔ اس وقت دنیا کی ایک تہائی سے بھی کم آبادی آن لائن ہے۔ چار ارب افراد اب بھی ویب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس سیزن کے دوران ہم اس عدم تناسب کا بھی جائزہ لیں گے۔

ہمارا یہ آن/آف منصوبہ شمالی نائیجریا کےگیتاتا گاؤں میں ایسے افراد پر نظر رکھ رہا ہے جو موبائل فونز کی مدد سے پہلی بار ویب سے آشنا ہو رہے ہیں۔

ابوجا سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع اس گاؤں میں بجلی نہیں ہے اور اس کا باہر کی دنیا سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ جب وہ اس عالمی بات چیت میں شریک ہوتے ہیں تو ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

اس کے بالکل برعکس ہم جنوبی کوریا بھی جائیں گے جو کہ دنیا کا سب سے ’وائرڈ‘ ملک ہے۔ وہاں ہم نے دو خاندانوں کو راضی کیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال ترک کر دیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ انٹرنیٹ سے بے حد انحصار کرنے والے معاشرے میں اس کے بغیر اپنے کام سرانجام دے سکتے ہیں یا نہیں؟

ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کس طرح اس ٹیکنالوجی نے ماضی میں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملایا ہے اور انہیں اپنے تجربات بانٹنے کے لیے ایک ذریعہ دیا ہے۔ بی بی سی رشین نے معذور افراد کے ساتھ وقت گزارا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ویب کس طرح انہیں اسی معاشرے کا کارآمد رکن بننے کا موقع دیتا ہے جس سے انہیں باہر کر دیا گیا تھا۔

یہ ویب کا ایک مشترکہ مرکزی خیال ہے۔ یہ ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کو ایسی تنظیموں اور افراد سے رابطے کا موقع فراہم کرتا ہے جن سے رابطے کا وہ ماضی میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ نتیجتاً اس نے کچھ تنظیموں کو مزید شفاف اور قابلِ رسائی بننے پر مجبور کر دیا ہے۔

صحافت کے شعبے میں یہ احساس بہت گہرا ہے۔ جب میں نے بی بی سی میں شمولیت اختیار کی اور ناظرین اور سامعین سے تعلق یک طرفہ سڑک جیسا تھا۔ ہم براڈ کاسٹنگ کے لیے پروگرام بناتے تھے اور کبھی کبھار آنے والے خط پروگرام میں شامل کر لیے جاتے تھے اور بس بات یہاں پر ختم ہوجاتی تھی۔

آج ہمارے قارئین، ناظرین اور سامعین ہماری سوچ کی روح ہیں۔ اس لیے اس سیزین کا ایک حصہ ’مائی ورلڈ‘ اپ کی فلموں پر مشتمل ہوگا جو اس دنیائے ویب کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر بیان کرے گا۔ اور یہی نہیں بلکہ ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں کہ اس ابھرنے والی طاقت کے بارے میں مذاکروں اور مباحثوں میں شرکت کریں۔

ہم اس سیزن کے بارے میں جو کچھ بھی ویب پر کہا جا رہا ہے اسے بتانے کی کوشش کریں گے۔ بلاگ ورلڈ میں کئی زبانوں میں لکھے جانے والے بلاگز میں سے بہترین بلاگز کو پیش کیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کو غلط طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے یہ سیزن سنسر شپ، آن لائن جرائم، سائبر جنگ جیسے موضوعات کا بھی جائزہ لے گا۔

بیس برس قبل صرف سائنس فکشن ذہن رکھنے والے افراد یہ سوچ سکتے ہوں گے کہ ایک ملک دوسرے پر کمپیوٹر کوڈ کی مدد سے حملہ کر سکتا ہے لیکن اب ’ورچوئل فائر والز‘ گولہ بارود کے ہمراہ ان چیزوں میں شامل ہوگئی ہیں جن کی مدد سے ملک بیرونی خطرات سے اپنا دفاع کرتے ہیں۔

یہ دنیا بدل چکی ہے۔

یہ سیزن ایک موقع ہے کہ ہم اس تبدیلی کا جائزہ لیں اور سوال کریں کہ اگر ہمیں اس نئی سپر پاور کو باقیوں کے ساتھ بانٹنا پڑے تو ہم اس کا کیا کریں گے؟

اسی بارے میں