نایاب حیاتیات کو انٹرنیٹ سے خطرہ

تحفظ حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناپیدگی کے خطرے سے دوچار حیاتیات کے لیے انٹرنیٹ ایک بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ بات خطرے سے دوچار حیاتیات کی غیر قانونی بین الاقوامی تجارت پر غور کرنے کے لیے بلائے گئے ایک سو پچھہتر ممالک کے کنونشن میں بتائی گئی ہے۔

یہ اجلاس قطر کے دارالحکومت دوہا میں ہو رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی مدد سے ایسے نایاب جانوروں کی خریدوفروخت پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس اور اس کے چیٹ رومز ( نیٹ پرگفتگو کے ذریعے) کی نیلامی میں شیر کے بچے سے لیکر برفانی ریچھ تک فروخت ہو رہے ہیں۔

Image caption برفانی ریچھ جن کی انٹر نیٹ پر غیر قانونی تجارت زوروں پر ہے

تاہم کنونشن میں حیاتیات کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعدد تجاویز مسترد کر دی گئیں جبکہ ہاتھی دانت کی تجارت میں تبدیلیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ اس ہفتے رائے شماری کے ذریعے کیا جائےگا۔

جانوروں کے تحفظ کے بین الاقوامی فنڈ کے اہلکار پال ٹوڈ کا کہنا ہے کہ حیاتیات کی عالمی تجارت میں انٹرنیٹ کے ایک آلۂ کار اور بڑی تجارتی منڈی بن جانے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر خرید و فروخت کرنے والے شناخت ظاہر نہ کرنے کے طریقہ کار سے بھر پور فائدہ اٹھا تے ہیں۔

اس غیر قانونی تجارت پر پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی شدت کے بارےمیں اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تجارت کی سب سے بڑی منڈی تو امریکہ ہے مگر یورپ، چین، روس اورآسٹریلیا بھی اس غیر قانونی کاروبار میں کم نہیں ہیں۔

اتوار کو ہونے والے سیشن میں شریک مندوبین نے ایرانی نسل کی ’ کیسر‘ نامی آبی چھپکلی کی غیر قانونی تجارت کو ممنوع قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ عالمی تحفظ حیوانات فنڈ کے اہلکاروں کے مطابق انٹرنیٹ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اس چھپکلی کی نسل کو پہنچا ہے۔

دوہا سے بی بی سی کی نامہ نگار سٹیفی ہینکاک کا کہنا ہے کہ برفانی ریچھوں، اور ٹیونا مچھلی کی ایک نایاب قسم ’بلیو فن‘ اور قیمتی ’کورلز‘ یعنی مونگوں کی تجارت پر پابندی کی کوششیں ناکام رہیں جس سے تحفظ حیوانات اور ماحولیات کے کارکن بہت مایوس ہیں۔

امریکہ اور سیویڈن کی جانب سے پیش کردہ ایک اور تجویز بھی مسترد کردی گئی جس میں سرخ اور گلابی مونگے یعنی مرجان کی تجارت کو باقاعدہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ہلکے اور گہرے سرخ مونگوں یعنی مرجان کے بنے ہوئے قیمتی زیورات ویب سائٹس پر کھلم کھلا فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں