شمسی ایندھن سے جہاز چلانے کا تجربہ

شمسی توانائی سے چلنے والے ایک جہاز نے اپنی پہلی آزائشی پرواز مکمل کر لی جس مقصد پروازوں کے لیے شمسی ایندھن کے استعمال کو ممکن بنانے کا ہدف قریب تر آ جائے گا۔

Image caption ایک شمسی جہاز کا ماڈل

سپر جمبو شکل کا آزمائشی جہاز مگر وزن میں صرف ایک سیلون کار کے برابر سوئززلینڈ کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔ جہاز کے پروں پر جہاز کے چاروں انجن چلانے کے لیے شمسی بیٹری لگائی گئی تھیں۔

جہاز کے ڈیزائنرز دو برس تک اس جہاز کا ایک ایسا بڑا ماڈل بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں جو دنیا کے گرد چکر لگائے گا۔

آزمائشی پرواز کا مقصد اڑان کے تقاضوں اور جہاز کی بناوٹ کے درمیان ہم آہنگی کا اندازہ لگانا تھا۔

ٹیم نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک بڑا مگر ہلکا پھلکا ایسا جہاز تھا جس کی اڑان کا اس سے پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ لیکن اس تجربے سے کچھ زیادہ معلوم نہیں ہو سکا۔

غبارے میں دنیا کا چکر لگانے والے غبارہ باز برٹ رینڈ اس منصوبے کے قیادت کررہے ہیں اور ا پنے ایک اور بانی ساتھی آندرے بوربرگ کے ہمراہ خود جہاز اڑاتے ہیں۔ بوربرگ نے جہاز کی اڑان بھرنے سے پہلے کہا کہ ’آج جوکچھ آپ دیکھ رہے ہیں یہ سات برسوں کی محنت کا ثمر اور اس ایجاد کا بہت اہم مرحلہ ہے‘۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کہ پرواز بھرنے سے لے کر زمین پر اترتے تک کے مراحل ہموار نظر آئے۔

اسی بارے میں