سورج کی حیرت انگیز تصاویر منظرِ عام پر

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی ’سولر ڈائنامکس‘ رصدگاہ نے سورج کی نئی اور حیرت انگیز تصاویر بھیجی ہیں۔

پہلی مرتبہ منظرِ عام پر لائی جانے والی ان تصاویر میں سورج کی سطح پر ہونے والے بڑے دھماکے اور گیس کے مرغولے دکھائے گئے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ نئی تصاویر انتہائی صاف ہیں اور اس سے انہیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ شمسی سرگرمیوں کے پیچھے کن عوامل کا ہاتھ ہے۔

شمسی سرگرمیاں ہمارے سیارے پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ چارجڈ ذرات اور تابکاری کا اخراج نہ صرف مصنوعی سیاروں کی کارکردگی اور ان کے مواصلاتی اور برقی نظام پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ اس سے خلابازوں کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

’سولر ڈائنامکس‘ رصدگاہ کو گزشتہ فروری میں خلاء میں بھیجا گیا تھا اور یہ پانچ برس تک کام کرے گی۔ محققین کا خیال ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اس قابل ہو جائیں گے کہ زمین پر سورج کے اثرات کے بارے میں پیشینگوئی کر سکیں۔

Image caption ’ یہ سورج کو ایک خوردبین سے دیکھنے کے مترادف ہے‘

اس رصدگاہ پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اب تک موصول ہونے والے ڈیٹا کی کوالٹی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ناسا کے ہیڈکوارٹر میں ایس ڈی اور پروگرام کے سائنسدان لیکا گوہاٹکرتا کا کہنا ہے کہ ’جب ہم یہ شاندار تصاویر دیکھتے ہیں تو میرے جیسے سائنسدان بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں‘۔

ناسا کی اس شمسی رصدگاہ پر تین ایسے آلات نصب ہیں جن کی مدد سے سورج کی سطح اور ماحول میں جاری سرگرمیوں پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔

اس رصدگاہ سے سورج کو عام ہائی ڈیفینیشن کیمرے سے دس گنا بہتر ریزولیوشن کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان آلات کی مختلف ’ویو لینتھ‘ کی بدولت سائنسدان سورج کا پرت در پرت جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔

برطانیہ کی ردرفرڈ ایپلیٹن تجربہ گاہ کے سائنسدان رچرڈ ہیریسن کے مطابق ’ اس رصدگاہ کی تصاویر مبہوت کر دینے والی ہیں اور ان میں جس تفصیل سے چیزیں دکھائی گئی ہیں وہ اس نئی تحقیق کے ارتقاء کی وجہ ہیں کہ سورج کے مقناطیسی میدان کس طرح بنتے اور بڑے ہوتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ یہ سورج کو ایک خوردبین سے دیکھنے کے مترادف ہے‘۔

اسی بارے میں