برطانیہ: مشین سے ووٹنگ

برطانیہ میں ماہرین نے دعوٰی کیا ہے کہ ملک میں الیکڑانک ووٹنگ سے مستقبل میں پولنگ سٹیشنوں میں پیش آنے والی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔

ووٹنگ کی گنتی

امریکی حکومت مستقبل میں الیکڑانک ووٹنگ متعارف کروانے کے بارے میں پلانگ کر رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ سہولت پہلے ہی موجود ہے۔

تاہم برطانوی انتخابی کمیشن نے ملک میں اس سسٹم کی سکیورٹی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں حالیہ انتخابات کے دوران ایسے ووٹروں نے جو طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کے باوجود اپنا ووٹ نہیں ڈال سکے مروجہ ریقے پر تنقید کی تھی۔

برطانیہ کی لوکل اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ مانکس کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کا سسٹم ہے اور اِس میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا ہے ’ہمیں ایسا نظام چاہیے جو اکیسویں صدی کے تقاضوں اور ہمارے طرز زندگی کے مطابق ہو۔‘

ابھی یہ بات واضح نہیں کہ برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران پیش آنے والی مشکلات انتخابی نتائج پر کس حد تک اثر انداز ہوئی ہیں۔

واظح رہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سنہ دو ہزار میں منعقد ہونے والے انتخابات کےدوران سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے متنازعہ انتخاب کے بعد امریکہ نے الیکڑانک ووٹنگ کا سسٹم متعارف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بھارت میں سنہ دو ہزار چار کے عام انتخابات کے بعد سے وہاں الیٹرانک ووٹنک کا طریقہ رائج ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طریقےسے ووٹر اپنا ووٹ بہت جلد ڈال سکیں گے اور اس سے بیلٹ پیپر کے ضائح ہونے کا احتمال بہت کم ہو جائے گا۔ جبکہ اس نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ نظام محفوظ نہیں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ میں اس طریقے کو رائج کرنے سے سست رفتار ووٹنگ سے چھٹکارہ مل جائے گا اور ایسے تمام افراد جو سرد موسم میں اپنا ووٹ نہیں ڈال سکے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔

برطانوی انتخابی کمیشن کی ترجمان نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کمیشن برطانوی پارلیمنٹ کو کچھ عرصے سے الیکڑانک ووٹنگ کے طریقۂ کار کو رائج کرنے کا مشورہ دیتا رہا ہے۔

اُن کے مطابق الیٹرانک ووٹنگ کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کی ضرورت ہے۔