ماحولیاتی ادارے کی’غلطیوں‘ کا جائزہ

آئی پی سی سی کے چیرمین پر غلط رپورٹ کے حوالے سے کافی نکتہ چینی ہوئی ہے ماحولیات سے متعلق عالمی ادارے آئی پی سی سی یعنی ’انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ سے ایمسٹرڈیم میں ایک اہم اجلاس شروع ہو رہا ہے۔

آئی پی سی سی پر الزام ہے کہ دو ہزار سات میں اس نے جو اپنی رپورٹ پیش کی تھی اس میں بڑے پیمانے پر غلطیاں تھیں۔

اسی وجہ سے مختلف حکومتوں نے اس ادارے کے کام کاج پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا اور اقوام متحدہ نے اسے کمیشن کیا ہے۔

آئی پی سی سی نے ہمالیائی گلیشئیر کے پگھلنے سے متعلق اپنی رپورٹ میں غلطیاں تسلیم کی ہیں لیکن اُس پر جو دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں انہیں اِس نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نظر ثانی کے لیے پینل کا قیام انٹر ایکیڈمی نے کیا ہے جس میں برطانیہ کی '' روئیل سوسائٹی '' جیسے ادارے شامل ہیں۔

جمعہ کو اس پینل کے سامنے سب سے پہلے آئی پی پی سی کے چیئرمین راجندر پچوری اپنی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں جس میں وہ ادارے کے طریقہ کار اور اصول و ضوابط کا خاکہ پیش کریں گے۔

Image caption ہمالیہ کے گلیشیئر کے پگھلنے کے متعلق رپورٹ رپوٹ میں غلطیاں تھیں

انٹر اکیڈمی کے ایک چیئرمین رابرٹ ڈی گراف کا کہنا ہے ’میں نے آئی پی سی کے متعلق بہت سے تبصرے پڑھے ہیں اور اس بارے میں میں نے ادارے کے باہر اور اندر کے بہت سے لوگوں سے بات چیت بھی کی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ماحولیات کا مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کے لیے سائٹیفیکٹ طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا’ آئی پی سی سی بہت کم وقت میں ترقی کے ساتھ آگے بڑھا ہے اور یہ بہت اچھا وقت ہے کہ اِس کے مینیجمنٹ اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں از سرِ نو سوچا جائے۔‘

فروری میں ماحولیات کے متعلق اقوامِ متحدہ کے ایک پروگرام میں کئی ممالک کے وزراء نے بھی اس ادارے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا آئی پی سی سی سے جو غلطیاں ہوئی ہیں اِس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی ادارے کی رپورٹ کی بنیاد پر بہت سی حکومتیں اپنے ملک میں ماحولیات سے متعلق پالیسیز مرتب کرتی ہیں ۔

اس مطالبے کے بعد ہی اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اس پر نظر ثانی کے لیے پینل بنانے کو کہا تھا۔

لندن میں ماحولیات سے متعلق ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر باب وارڈ کا کہنا ہے ’دنیا کے بہترین سائنٹیفیکٹ ایکڈیمیز کی نظر ثانی سے آئی پی سی سی پر اعتماد بحال ہو گا اور اس کی ساکھ بحا ہو سکتی ہے۔ ‘

آئی پی سی سی پر نظر ثانی کے لیے پینل میں دنیا کے بہتریں اداروں سے سبھی شعبوں سے لوگوں کی نمائندگی ہے اور اس میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے ماہر شامل ہیں۔ امریکہ کے ماہرِ اقتصادیات ہیرالڈ شاپیرو اس کی سربراہ ہیں جو سابق امریکی صدر بل کلٹن اور بش کے اہم مشیر رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں