ماؤنٹ ایورسٹ’خطرناک پہاڑ‘ بن گیا

نیپال کے شرپا کوہ پیماؤں نے خبردار کیا ہے کہ برف کے پگھلاؤ کی شرح میں اضافے اور پتھریلی چٹانوں کے ابھرنے نے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کو کوہ پیماؤں کے لیے ایک خطرناک پہاڑ بنا دیا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ پر مہمات کے سیزن کے اختتام پر کھٹمنڈو واپس آنے والے شرپا کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ اگر ماؤنٹ ایورسٹ پر برف پگھلنے کی موجودہ شرح برقرار رہی تو مستقبل میں وہاں مہمات کا جانا مشکل ہو جائے گا۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر بقیہ جنوبی ایشیا کے مقابلے میں درجہ حرارت میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

نیپالی شرپا داوا سٹیفن کے مطابق اب کوہ پیماؤں کو ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھتے ہوئے چٹانوں اور برف پگھلنے کی وجہ سےگرنے والے پتھروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب آپ آٹھ ہزار میٹر کے قریب پہنچتے ہیں تو چڑھائی انتہائی خراب ہو جاتی ہے بلکہ یہ صرف خراب نہیں بلکہ خطرناک ہو جاتی ہے‘۔

داوا سٹیفن کا کہنا ہے کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کریمپونز اور برفانی کلہاڑے اب ان مہمات کے لیے صحیح سامان نہیں رہے۔ ان کے مطابق ’جہاں برف ختم ہوئی ہے وہاں اب صرف چٹانیں ہیں اور آہنی آلات ان چٹانوں میں نہیں گھس سکتے اور نتیجہ آپ کے پھسلنے کی صورت میں نکلتا ہے‘۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی انتیس ہزار پینتیس فٹ یا آٹھ ہزار آٹھ سو پچاس میٹر ہے اور یہ دنیا کا بلند ترین مقام ہے اور اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم ستّر ہزار ڈالر خرچ آتا ہے۔

اسی بارے میں