مصر:گمشدہ مقبرے کی دوبارہ دریافت

مصر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع ایک صحرا میں تقریباً تین ہزار سال پرانا ایک مقبرہ دوبارہ دریافت کیا ہے۔

خیال ہے کہ تینتیس سو سال پرانا یہ مقبرہ میمفیز کے قدیم دارالحکومت کے حاکم تیمس کا ہے۔

یہ مقبرہ انیسیوی صدی میں پہلی مرتبہ نوادرات کی تلاش کرنے والے گروہوں نے دریافت کیا تھا تاہم بعد میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ اس مقبرے کی جگہ کا تعین کرنے میں ناکام رہے تھے۔

مصری ماہرین نے پانچ سال کی تحقیق کی بعد اب اس مقام کا پتہ چلایا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ اس مقبرے میں حنوط شدہ لاش اب بھی موجود ہے۔

محققین کے مطابق سنہ اٹھارہ سو پچاسی سے یہ مقبرہ مٹی سے ڈھکا ہوا تھا اور کوئی اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم مقبرہ ہے کیونکہ یہ کھو گیا تھا۔

تیمس فرعون کا سپہ سالار اور وزیرِ خزانہ تھا اور فرعون سیتی اول اوراس کے بیٹے ریمسس دوم کے بعد اہم سمجھا جاتا تھا۔

ستر میٹر لمبا یہ مقبرہ صقارہ کے قبرستان میں واقع ہے اوراس میں موجود تصاویر میں تیمس اور اس کے اہلِ خانہ کو شکار کرتے اور دریائے نیل میں مچھلیاں پکڑتے دکھایا گیا ہے۔ مصری ماہرین اب اس مقبرے کے مرکزی کمرے کی تلاش میں ہیں جہاں سے حنوط شدہ لاشیں اور وہاں رہنے والوں کے بقایاجات کی موجودگی کے امکانات ہیں۔