’یہودی ایک دوسرے کے زیادہ قریب‘

ایک سائنسی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جینیاتی طور پر یہودی ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوتےہیں۔

یوروشلم میں بعض یہودی(فائل فوٹو)
Image caption بھارتی اور یوتھوپیا کے یہودی جینیاتی طور پر غیر یہودیوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں

ایک جینیاتی ریسرچ کے ذریعے یہودیوں کی تاریخ پر نئی روشنی ڈالی گئی ہے۔

محقیقین نے چودہ یہودی برادریوں کےجینیاتی نمونے جمع کیے اور ان کا موازنہ 69 غیر یہودیوں کے جنییاتی نمونوں سے کیا۔ اس موازنے سے ظاہر ہوا کہ بیشتر یہودی غیر یہودیوں کی بنسبت ’جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔‘

یہ ریسرچ نیچر نامی سائنسی میگزین میں شائع ہوئی ہے۔

اس ریسرچ میں مختلف ممالک میں رہنے والے یہودی اور مشرقی وسطی میں آباد غیر یہودیوں کے جینیاتی مماثلت کے بارے میں بھی پتالگایا گیا ہے۔

یہ ریسرچ اس خیال سے ہم آہنگ ہے کہ بیشتر موجودہ یہودیوں کے آب و اجداد کا تعلق قدیم فلسطینی علاقے میں رہنے والے قبائل سے تھا۔

اسرائیل میں حائفہ میں رامبام ہیلتھ کئیر کیمپس کے ممبر دورون بیہار کی قیدات میں محقیقین کی ایک ٹیم نےیہ دریافت کیاہے۔

مسٹر دورون بیہار نے اس ریسرچ کو ’جینیٹک ارکیولوجی‘ کا نام دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ بیشتر یہودی آبادی جینیاتی طور پر دوسرے ممالک میں آباد یہودیوں کی بنسبت مشرقی وسطی میں بسنے والے یہودیوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں'۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایتھوپیا اور ہندوستان میں آباد یہودی جینیاتی طور پر غیر یہودیوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں