امریکہ: اینٹی ایئرکرافٹ لیزر کا تجربہ

فائل فوٹو
Image caption کمپنی بہت دنوں سے لیزر تجربات میں مصروف تھی

ہتھیار بنانے والی ایک امریکی کپمنی ’ریتھیون‘ نے ایئر شو کے دوران جہاز کو مار گرانے والی ایک خصوصی لیزر ٹیکنالوجی کو پیش کیا ہے۔

کپمنی نے ہیمپشائر میں فانبرہ کے مقام پر ایک ایئر شو کے دوران یہ تجربہ کیا ہے۔

’دی لیزر کلوز ان ویپن سسٹم‘ یعنی سی آئی ڈبلیو ایس نامی اس نظام کا بذات خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یا توپوں کے ساتھ بھی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل مئی میں بغیر پائلٹ والے ایک جہاز کو مارگرانے کے لیے لیزر کا کامیاب تجربہ کیاگيا تھا۔

ریتھیون کا کہنا ہے کہ سولڈ فائبر کی لیزر سے پچاس کلوواٹ کی شعائیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ بغیر پائلٹ والے جہاز، مورٹار، راکٹ اور اور چھوٹے سمندری جہازوں کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں۔

لیزرز کی دریافت انیس سو ساٹھ میں ہوئی تھی اور تبھی سے انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ پہلے کیمائی لیزر کا سسٹم تھا جو کیمکل کے ردعمل سے قوت پاتی تھیں۔

لیکن اس کے برعکس سولڈ سٹیٹ لیزرز شیشے یا سرمیک مادے کی مدد سے شعائیں پیدا کرتی ہیں۔

دفاع سے متعلق ایک ہفتہ وار میگزین جین ڈیفنس کے ایڈیٹر پیٹر فیلسٹیڈ کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈبلیو ایس اب دفاعی امور میں استعمال کی جا سکے گي۔ ’بغیر پائلٹ والا جہاز نہ تو ہتھیار ہے اور نہ ہی بہت تیزی سے اڑتا ہے لیکن لیزر سے اسے گرادیا گیا۔ یہ ابھی اس ٹیکنالوجی کا ابتدائی مرحلہ ہے جو مستقبل میں بہت موثر ثابت ہوسکتی ہے۔‘

ریتھیون کمپنی کے نائب صدر مائک بوئن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ لیزر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ایک بڑا قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اینٹی میزائیل نظام کے تحت اسے امریکی اور نیٹو کے بہت سے جہازوں، جیسے رائل بحریہ پر پہلے ہی نصب کیا جا چکا ہے۔ یہ بچنے کا آخری حربہ ہے۔ تو اگر آپ نے اسے بھی نصب کر لیا تو پہنچ دور تک ہو جاتی ہے۔‘

لیکن لیزر ٹیکنالوجی ابھی پوری طرح سے ترقی نہیں کر پائی ہے اور اس میں بعض مشکلات کا سامنا ہے۔

مسٹر بوئن بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں ان مشکلات کو دور کیا جا سکتا ہے۔

’ہر مادے کی اپنی ریفلیکشنز ہیں لیکن آپ طاقت سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ ایک بار آپ اس کے کلو واٹ اور تھریش ہولڈ پر قابو پالیں تو پھر لیزرز وہی کریں گی جس کے لیے وہ ڈیزائن کی گئی ہیں۔‘

لیزر سے بغیر پائلٹ کے جہاز کو مار گرایا گیا لیکن کمپنی نے اس کی رفتار، اونچائی اور رینج کے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا۔ ریتھیون کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیٹا کافی حساس ہے۔

مسٹر فیلسٹیڈ کا کہنا تھا کہ لیزر ٹیکنالوجی کو صرف جہاز گرانے کے لیے ہی نہیں بلکہ کئی دوسری چیزوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

’افغانستان میں ایئربیس، بغداد میں گرین زون اور غزہ کی سرحد پر اسرائیل کی جانب سے اس طرح کی ٹیکنالوجی بخوبی استعمال کی جا سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں