ایزبیسٹوس پر مکمل پابندی کا مطالبہ

Image caption ایزبیسٹوس کے استعمام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آج کل صرف سفید ایزبیسٹوس کو استعمال کیا جا رہا ہے

دنیا بھر میں سائنسدانوں، ڈاکٹروں اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگلے دس سال میں ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں افراد ایزبیسٹوس کی مضر اثرات کا شکار ہو جائیں گے۔

بی بی سی اور انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایزبیسٹوس کی صنعت کو لابی گروپوں کے ایک عالمی نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہے اور اس کی پروموشن پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کے سٹیو بریڈشا کے مطابق سائنس کے میدان میں اس تنازعے پر شدت سے بحث جاری ہے کہ آیا ایزبیسٹوس کو صحت کو نقصان پہنچائے بغیر استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

نامہ نگار کے مطابق ترقی پذیر ملکوں میں سستی اور آگ سے محفوظ چھتیں بنانے، پائپ بنانے اور دیگر تعمیراتی سامان میں ایزبیسٹوس کا استعمال بہت عام ہے۔

ایزبیسٹوس کے استعمام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آج کل صرف سفید ایزبیسٹوس کو استعمال کیا جا رہا ہے جو صرف اسی صورت میں ممکنہ طور پر مضر ہو سکتا ہے اگر اسے بڑی مقدار میں استعمال میں لایا جائے جبکہ تھوڑی مقدار میں اس کا استعمال محفوظ ہے۔ مختلف سائنسی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صرف نیلے یا بھورے ایزبیسٹوس کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔

ایسے شواہد کے بعد کے ایزبیسٹوس کے استعمال سے کینسر اور سانس کی بیماریاں ہو سکتی ہے دنیا کے پچاس سے زائد ملکوں میں اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

لیکن اب سائنس دانوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے یہ مطالبہ شدت پکڑتا جا رہا ہے کہ سفید ایزبیسٹوس کے استعمال پر بھی پابندی لگائی جائے کیونکہ اس کے استعمال سے بھی پھیپھڑوں کا کینسر ہو سکتا۔

رپورٹ کے مطابق ایزبیسٹوس کے استعمال پر یورپی یونین سمیت دنیا کے پچاس سے زائد ملکوں پر پابندی ہے لیکن اسے بھارت، چین، روس، برازیل اور کئی دیگر ترقی پذیر ملکوں کو برآمد کیا جا رہا ہے جہاں متعلقہ قوانین اتنے سخت نہیں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے عالمی ادارہِ صحت کے ایک سائنسدان کے حوالے سے کہا ہے کہ سفید ایزبیسٹوس کی مائننگ اور برآمد کا کام اب روک دیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں