امریکی دفاعی کمپیوٹرز پر حملہ

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن کے حکام کے مطابق سنہ دو ہزار آٹھ میں مشرقی وسطی میں ایک ’فلیش ڈرائیو‘ کے ذریعے کیئے جانے والا سائیبر حملہ امریکہ کے فوجی کیمپیوٹر پر اب تک ہونے والے خطرناک ترین حملہ تھا۔

امریکہ نائب وزیر دفاع ویلیم لا ئن کا کہنا ہے کہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی طرف سے کیا جانے والے یہ حملہ امریکہ فوجی نیٹ میں اب تک کیئے جانے والے حملوں میں سب سے خطرناک حملہ ثابت ہوا ہے۔

امریکی جریدے ’فارن افیئر‘ میں ویلیم لائن نے لکھا ہے کہ یہ حملہ امریکی فوجی راز چرانے کی ایک بہت بڑی کوشش تھی۔

انھوں نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سائیبر دفاعی نظام کے فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر کرے۔

امریکہ نائب وزیر دفاع نے کہا کہ اس سے قبل پوشیدہ رکھے جانے والا سنہ دو ہزار آٹھ کا سائیبر حملہ مشرق وسطی کے ایک فوجی اڈے میں امریکی وزارتِ دفاع کے ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں ایک فلیش ڈرائیو ڈالنے سے شروع ہوا۔

ویلیم لائن لکھتے ہیں کہ اس فلیش ڈرائیو کے کمپیوٹر کوڈ نے پھر امریکی محمکہ دفاع کے کمپیوٹرز میں خاموشی سے پھیلانا شروع کیا اور امریکی خفیہ رازوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہونے لگا۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ کوئی راز منقتل کرنے میں کامیاب ہوا یا اس سے قبل ہی اسے کے بارے میں معلوم ہو گیا۔

اس مضمون میں ویلیم لائن نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی برتری کو اس انتہائی کم قیمت کی سائیبر جنگ سے خطرہ ہے۔

امریکی نائب وزیر دفاع لکھتے ہیں ایک درجن کے قریب کمپیوٹر پروگریمر کسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوےامریکہ کے بین الاقوامی سطح پر رسد کے نظام، اس کے منصوبوں، خفیہ صلاحیت اکھٹا کرنے اور اہداف تک ہتھیاروں کو پہنچانے کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ویلیم لائن سابق صدر بل کلنٹن کے دورے میں امریکی دفاعی بجٹ سے منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پینٹاگن کو سائیبر دفاع کی کٹ تیار کرنے کے پروگرام کو تیز کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اوسطً ابتدائی فنڈ مہیا ہونے کے بعد پینٹاگن کو ایک نیا کمپیوٹر نظام تیار کرکے چلانے تک اکاسی مہینے کا وقت درکار ہوتا ہے جبکہ ایپل جیسی کمپنی نے آئی فون بنانے میں صرف چوبیس ماہ لگائے تھے۔

اس سے زیادہ وقت تو پینٹاگن کو بجٹ تیار کرنے اور اس کی کانگریس سے منظوری لینے میں لگا جاتا ہے۔

ویلیم لائن نے لکھا ہے کہ امریکہ وزارت دفاع پندرہ ہزار کے قریب نیٹ ورکس اور ستر لاکھ کے قریب کمپیوٹر دنیا بھر میں استعمال کرتی ہے اور جن پر دن میں ہزاروں مرتبہ حملہ آور داخل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں۔

پینٹاگن نے اس سال مئی میں اپنے سائیبر دفاعی نظام کو ایک کمانڈ کے تحت لا کر مستحکم کیا ہے۔