پیٹنٹ کی خلاف ورزی پر عدالتی چارہ جوئی

پال ایلن
Image caption پال کے مطابق جو حقوق ان کے پاس ہیں ان کی خلاف ورزی ہوئی ہے

مائیکرو سافٹ کے مشترکہ بانی پال ایلن نے پیٹینٹ کی خلاف ورزی پر یاہو، گوگل، فیس بک اور ای بے جیسی کئی بڑی کمپنیوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

پال نے سنہ انیس سو نوے میں ’انٹرول لائسنسنگ‘ نامی کمپنی قائم کی تھی۔

ان کے مطابق ان کی کمپنی کے پاس جو بہت سے سارے حقوق ہیں ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

یہ مقدمہ، ایپل، یاہو، فیس بک، کوگل اور ای بے کے علاوہ دیگر چھ کمپنیوں کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے اس نے پہلے جو ویب ٹیکنالوجی تیار کی تھی اس کے حقوق کی پاسداری نہیں کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ویب سائٹ جس طرح کام کرتی ہے اور ای بزنس کا جو طریقہ ہے اس میں پیٹنٹ کی کلیدی حیثیت ہے۔

مقدمہ جمعہ کے روز واشنگٹن کی ایک ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔’انٹرول‘ کا کہنا ہے اس نے نقصان کا خمیازہ اور حقوق کی خلاف ورزی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمپنی نے ابھی نقصان کے خمیازہ کا تعین نہیں کیا ہے لیکن اس کے ترجمان ڈیوڈ پوسٹ مین نے کہا کہ جیسے جیسے کیس آگے بڑھے گا ویسے ویسے اس کا تعین بھی ہو جائیگا۔

ترجمان کا کہنا تھا ’ہم جو ضروری ہوگا وہ کریں گے، یہ ایک اہم قدم ہے‘۔

’یہ پہلا موقع ہے جب پال ایلن نے اس طرح کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ کچھ تکنیک ان لوگوں کی تیار کردہ ہے جو پال کے لیے ایک عشرے پہلے کام کرتے تھے، اب وہ تکنیک سرچ اور ای کامرس کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور انڈسٹری میں اس نے اپنا مقام حاصل کر لیا ہے‘۔

ادھر گوگل، فیس بک، اور ای بے نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کا مقابلہ کریں گے۔ گوگل کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’امریکہ کی بعض جدت پسند کمپنیوں کے خلاف اس مقدمہ سے اس بدقسمت رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ بعض لوگ مارکیٹ کے بجائے عدالت میں مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اختراع سے بازار میں قسم قسم کی پروڈکٹ لائے جا سکتے ہیں جس سےلاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ کہ مقدمات کے ذریعے‘۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے بھی اس قدم کو’انتہائی بے جا‘ قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے پیٹنٹ کے حوالے سے کافی مقدمے بازی ہوئی ہے۔

ایپل، نوکیا اور ایچ ٹی سی اس بارے میں کافی دنوں سے پہلے ہی سے مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اوریکل نے بھی اسی طرح کا ایک کیس گوگل کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔ اس طرح کے کئی معاملات میں نقصان سے بچنے کے لیے بعض لوگوں نے تو کمپنیوں کو ہی خرید لیا ہے۔

لیکن ڈیوڈ پوسٹ مین کا کہنا ہے کہ مسٹر ایلن کا مقدمہ مختلف ہے۔ ’ہم ان پیٹنٹ پر زور نہیں دے رہے جس کے خلاف دوسری کمپنیوں نے کیس کیا ہے اور نہ ہی ہم وہ پیٹنٹ خریدنا چاہتے ہیں جو دوسری کمپنیوں کو دیا جا چکا ہے۔ ہم تو ان پیٹینٹ کی بات کر رہے جو’انٹرول‘ نے اپنے لیے ہی تیار کیے ہیں‘۔

اسی بارے میں