انڈیا:گوگل کی سروس متاثر ہونے کا خدشہ

فائل فوٹو
Image caption بلیک بیری، گوگل اور سکائی پی کی سروسز متاثر ہو سکتی ہیں

بھارتی حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں پر نگرانی کے لیے اپنا موقف سخت کر دیا ہے اور سبھی کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی جو مواصلاتی نظام پر مبنی ہے اس تک رسائی ضروری ہے۔

حکام کے مطابق ’چاہے وہ گوگل ہو یا پھر سکائیپ کوئی بھی کمپنی جو بھارت میں آپریٹ کرتی ہے اسے ڈیٹا تک رسائی مہیا کرانا لازمی ہے۔‘

حال ہی میں بھارتی حکام اور بلیک بیری بنانے والی کمپنی ریسرچ ان موشن ( آر آئی ایم) کے اہلکاروں کے درمیان دلی میں اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے جس کے بعد حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔

اس کے تحت حکومت ان نجی کمپنیوں کو بھی بخشنے والی نہیں ہے جو دوسری کمپنیوں کے ملازمین کو کام کرنے کے لیے محفوظ نیٹ ورک مہیا کرتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت ڈیٹا تک رسائی کے لیے اس طرح کا موقف دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر اپنا رہی ہے۔

گارٹنر نامی ایک تجزیاتی کمپنی کے ڈائریکٹر کرسٹین کیسپر کا خیال ہے حکومت یہ سب اس لیے کر رہی کیونکہ اس نے یہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

’یہ سنہ دو ہزار کے آئی سی ٹی ایکٹ کی بنیاد پر ہے جسے دو ہزار آٹھ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت کمپنیوں کی رہنمائی کرنی تھی۔ قانون بنانا ایک چیز ہے لیکن کمپنیوں کو پتہ نہیں ہے کہ وہ اپنے سسٹم کو کیسے کنفیگر کریں اور یہ اصول بھی بہت خاص ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق اس معاملے میں سختی برتنے سے کوگل کی اور سکائی پی کی متاثر ہوں گی۔ ’سکائیپ کا مسئلہ بھی بلیک بیری جیسا ہے۔ اب تک وہ بھی پروپرایٹری پروٹوکول استعمال کرتی ہے اور کسی کو پتہ نہیں ہے کہ آخر اس کا سرا کہاں ہے۔‘

گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی حکومت کی طرف سے اس سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر بلیک بیری کو اس سلسلے میں مزید ساٹھ دنوں کی مہلت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈیٹا تک رسائی کے لیے وہ کوئی راستہ تلاش کرے۔

بلیک بیری نے اس سلسلے میں اپنا ایک سرور بھارت میں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت نے بلیک بیری کو یہ مہلت اس لیے دی گئی ہے کیونکہ آئندہ ماہ دلی میں دولت مشترکہ کھیل ہونے والے ہیں اور اگر پابندی لگادی گئی تو کمیونکیشن کا مسئلہ کھڑا ہو جائیگا۔

بھارت میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ بلیک بیری کا استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں