سرخ سیارہ بنجر نہیں ہے:سائنسدان

مریخ
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مریخ پر زندگی تھی یا نہیں اس بحث میں مدد ملے گی

ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر کاربن والے وہ نامیاتی ذرے موجود ہیں جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ مریخ سوکھا اور بے جان نہیں ہے۔

اس سے ‍قبل 1976 میں ناسا کے دو سائنسدانوں نے مريخ سے حاصل مٹی کے نمونوں پر تحقیق کی تھی تو وہاں کاربن کے ذرے موجود ہونے کے کوئی ثبوت نہیں حاصل ہوئے تھے۔

لیکن جب 2008 میں سائنسدانوں نے مریخ کے ’آرکٹک‘ خطے میں کلورین والے کیمیکل دریافت کیے تو اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ ایک بار پھر اس طرح کی دریافت کے لیے مریخ پر جائیں گے۔

مریخ کی مٹی اور کلورین والے کیمکل کو ملا کر جلانے پر جو گیس نکلی وہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور کلورومیتھین اور ڈائکلورومتھین تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے ’ہمارے نتائج سے یہ پتہ چلا ہے کہ نہ صرف اورگینک بلکہ کلورین والے کیمکل بھی وہاں موجود تھے‘۔

اس دریافت کے باوجود سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا کہ مریخ پر کبھی زندگی تھی بہت جلد بازی ہوگی۔

کیلیفورنیا میں ناسا کے ایمیس رسرچ سینٹر کے کرس میکی کا کہنا ہے ’یہ دریافت اس بارے میں کچھ نہیں کہتی ہے مریخ پر کبھی زندگی تھی یا نہیں لیکن دریافت سے اس سوال پر ہونی والی بحث پر ایک بڑا اثر ہوگا‘۔

اسی بارے میں