قطب شمالی کے مسئلے پر اجلاس

بحرمنجمد میں روس کا پرچم
Image caption 2001 میں ماسکو نے اقوام متحدہ کے سامنے بحرمنجمد پر اپنا دعوی پیش کیا تھا

روس کے دارالحکومت ماسکو میں قطب شمالی کے مسئلے پر ایک عالمی اجلاس ہو رہا ہے۔

اجلاس کا مقصد قطب شمالی پر موجود تیل اور گیس کے ذخائر کی لڑائی کو ختم کرنا ہے۔

خیال کیاجاتا ہے کہ پوری دنیا کا ایک تہائی تیل اور گیس کے ذخائر قطب شمالے کے نیچے دبے ہیں۔

روس، ناروے، کینیڈا، ڈنمارک اور امریکہ اس خطے پر اپنا اپنا دعویٰ پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔

اس اجلاس میں تین سو نمائندے حصہ لے رہے ہیں جو اشتراک اور تعاون کے لیے بات کرنے کے علاوہ ایک بار پھر اپنا اپنا دعویٰ پیش کریں گے۔

سال دو ہزار ایک میں ماسکو نے اقوام متحدہ کے سامنے اس خطے پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے اس کے دعوے کو مسترد کردیا گیا تھا۔

دو ہزار سات میں روسی ٹیم نے قطب شمالی میں چودہ ہزار فٹ نیچے روس کا جھنڈا نصب کیا تھا۔

اس مہم کے دوران روسی سائنسدانوں نے ٹائٹینیم کے ایک کیپسول میں روسی پرچم نصب کرنے کے علاوہ قطب شمالی کے نیچے سے سمندری آب و حیات کے نمونے بھی اکٹھے کیے تھے۔

مبصرین کے مطابق اس مشن کے ذریعے روس قطب شمالی پر اپنے دعوے کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ قطب شمالی کے ایک بڑے خطے پر روس اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے جہاں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں لیکن امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں نے روس کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے۔

بین الاقومی قوانین کے تحت ملکوں کو اپنے ساحل سے دو سو ناٹیکل میل سمندر کے اقتصادی زون پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے لیکن اس کے آگے بھی کوئی ملک سمندر میں اپنا ارضیاتی سلسلہ ثابت کرسکتا ہے۔

روس اپنے مشن کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس خطے پر اس کا دعویٰ ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت قطب شمالی کسی ایک ملک کا حصہ نہیں ہے اور اس کا انتظام انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی کے تحت ہے۔

روس یہ اعلان کرچکا ہے کہ اپنے دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لیے وہ رسرچ کرے گا اس پر وہ چونسٹھ ملین ڈالر خرچ کرے گا۔

گزشتہ ہفتے کینیڈا کے وزیر خارجہ نے اپنی روسی ہم منصف سے اپنے دعویٰ سے متعلق ایک ملاقات کی تھی۔

کینیڈا کا کہنا تھا کہ جیت اس کی ہوگی۔

اسی بارے میں