’پوڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر قانونی جھگڑا

Image caption سیکٹر لیبز کی وکیل انا کرسچن نے وائرڈ ڈاٹ کوم میگزین کو بتایا کہ اس لڑائی کا مقصد صرف ’پوڈ‘ کے لفظ کا استعمال نہیں ہے

ایپل نے لفظ ’پوڈ‘ کے استعمال کے حق کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کردی ہے۔

اس تنازع کا آغاز تب ہوا جب سیکٹرلیبز کی جانب سے ایک پروجیکٹر جسے ’ویڈیو پوڈ‘ کا نام دیا گیا ہے ، بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایپل کا موقف ہے کہ سیکٹرلیبزکی جانب سےلفظ ’پوڈ‘ استعمال کرنے سے ایپل کےصارفین مغالطےکا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس نام کی قانونی ملکیت کے تقاضے کے لیے دونوں کمپنیاں اگلے مہینے امریکی عدالت میں دستاویزات جمع کرائیں گی۔

ایپل نےآٹھ سو تہتر صفات پرمشتمل دستاویزعدالت میں جمع کروائی ہے جس کےذریعے وہ پوڈ کے لفظ کے خصوصی استعمال کادعویدارہے۔

سیکٹرلیبز اکتوبرکے پہلے ہفتےمیں جوابی دلائل داخل کروائےگی جس کے بعد یہ دستاویزات امریکی پیٹینٹ آفس کو بھیجی جائیں گی جو ان دعوؤں کی جانچ پڑتال کرے گا۔

سیکٹر لیبز کی وکیل انا کرسچن نے وائرڈ ڈاٹ کوم میگزین کو بتایا کہ اس لڑائی کا مقصد صرف ’پوڈ‘ کے لفظ کا استعمال نہیں ہے۔

انا کرسچن نے کہا کہ ’میں اس کیس سے یہ امید کرتی ہوں کہ اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور بڑے اور چھوٹے کاروباری ادارے انگریزی زبان کو اپنی مرضی سے اپنی اشیاء کی برانڈنگ کے لیے استعمال کرسکیں‘۔

دونوں کمپنیوں میں یہ لڑائی دو ہزار نو میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب سیکٹر لیبز کے ویڈیو پروجیکٹر کی خبر منظر عام پر آئی تھی۔

سیکٹر لیبز ایسی کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جن پر ایپل کو اعتراض ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اشیاء کے ناموں میں ’پوڈ‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔

اسی بارے میں