سمندروں کے نیچے دس برس

سمندری مخلوق

سمندری حیات کی پہلی گنتی سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ انسانی کارروائیاں کس طرح زیر آب زندگی کے مختلف نظاموں کو متاثر کر رہی ہیں۔

سمندری حیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے اس بین الاقوامی منصوبے میں اسی ممالک سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سات سو ماہرین حصہ لے رہے ہیں جو کل ملا کر تقریباً نو ہزار روز سمندر میں گزاریں گے۔

اس منصوبے کو اپنی نوعیت کا جامع ترین منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے ایک اعلیٰ اہلکار این پائنر نے لندن میں اس منصوبے کے دس سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں کہا کہ اکیسویں صدی کی اس بین الاقوامی تعاون کی مثال بننے والی مہم سے سمندروں کی تہوں میں زندگی کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ جمع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پانی سے باہر تمام زندگی کا دارومدار پانی سے نیچے زندگی پر ہے‘۔

سمندری حیات پچاس فیصد آکسیجن اور خوراک کی بڑی مقدار فراہم کرتی ہے اور موسموں کا نظام چلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندروں کے نیچے زندگی کے بارے میں ابھی بہت کچھ معلوم کیا جانا ہے جن میں جانوروں کی تقریباً ساڑھے سات لاکھ قسمیں اور ان کا کردار شامل ہے۔

چار سو تیرہ ملین پاؤنڈ کی لاگت کا یہ منصوبہ سن دو ہزار میں شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں تین سوالوں کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلا سوال ہے کہ سمندر کی تہہ میں کون رہتا تھا؟ سمندر میں کون رہتا ہے اور سمندر میں کون رہے گا؟

دس سال تک کام کرنے کے بعد بھی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زیر آب رہنے والی تمام مخلوق کے بارے میں جاننا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم ماہرین نے چھ ہزار اقسام کا پتہ چلایا ہے جو غالباً نئی ہیں۔ اس طرح اب سمندری مخلوق کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار سے بڑھا کر تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار کر دی گئی ہے۔

منصوبے میں شامل سائنسدان پروفیسر بورس ورم نے کہا تیزی سے بدلتے ہوئے ہمیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔‘ ’یہ ہمیں دریافت کی راہ پر سفر جاری رکھنے اور مستقبل میں دانشمندانہ فیصلے کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں