فیس بک کے حریفوں میں اضافہ

Image caption ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے بڑے سماجی نیٹ ورکس کا بے حد بول بالا ہے

ہو سکتا ہے کہ سماجی نیٹ ورک ’فیس بک` کے صارفین کی تعداد پچاس کروڑ کے قریب ہو اسے دنیا کا سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک مانا جاتا ہے مگر اب بدلتی ہوئی دنیا میں اس کے بہت سے حریف پیدا ہو چکے ہیں۔ جن میں سے کچھ تو بہت ہی قد آور حریف ہیں جو دنیا کی تیزی سے بڑھتی اور پھیلتی معیشتوں میں پیدا ہوئے ہیں۔

چیلنجرز

ان میں سے ایک فیس بک کے بڑے چیلینجر ’آ بیبو‘ کے چیف ایگز یکٹو بھارت کے اشیش کاشیاب کا کہنا ہے، جب ہم کوئی پلیٹ فارم بنانے کا منصوبے بناتے ہیں،تو ہماری کوشش ہوتی ہے لوگ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے تعلقات بناسکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں سماجی گیمز بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ایسےکھیلوں میں آبیبو پر مثال کے طور پر ’ دی گریٹ انڈین پارکنگ وارز‘ ہیں جس میں اکر صارفین پوائنٹس جمع کرسکتے ہیں۔اور اُن کے کھیل میں اس میں مقامی رنگ بھی آجاتا ہے۔

آبیبو سال دو ہزار سات میں تشکیل دی گئی اور اس کے صارفین کی تعداد سینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اور بھارت کے اندر یہ سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ اُن کے پاس بین الاقوامی صارفین کی کمی ہے بلکہ کاشیاب کہتے ہیں ہم صرف اپنی مقامی مارکیٹ پر ہی پوری توجہ رکھنا چاہتے ہیں۔

آبیبو کے سربراہ کاشیاب کہتے ہیں کہ لوگ اپنے مو بائل فون سے انٹر نیٹ کے ذریعے خریداری کررہے ہیں اور بڑ ی اشیا یعنی ٹریکٹروں سے لیکر منی سکرٹ تک خرید رہے ہیں۔

مقامی مارکیٹ اہم

ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے بڑے سماجی نیٹ ورکس کا بے حد بول بالا ہے، وہیں کچھ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتیں اپنے مقامی صارفین کو راغب کرنے کی کوشش میں ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹر نیٹ انسٹیٹیوٹ میں ویب سائٹس سے پیدا ہونے والی سماجی اور ثقافتی پیچیدگیوں پر نظر رکھنے والے گرانٹ بلینک کہتے ہیں کہ انگریزی زبان اور امریکی ثقافت کا تسلط فیس بک کی کامیابی کا راز ہے۔ جبکہ دوسری زبانوں مثلاً عربی اور چینی نیٹ ورکوں کے لیے یہ ممکن نہیں۔

چین میں سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک نہ تو کسی امریکی کا ہے اور نہ ہی چین کی حکومت کا بلکہ یہ ’ ٹین سینٹ‘ کی ملکیت ہے، اس کے 569 ملین صارفین ہیں جن میں سوال و جواب اور فوری پیغام رسانی انتہائی مقبول ہے۔ اس کے صارفین کی تعداد میں گزشتہ برس ہی انتالیس فیصداضافہ ہوا ہے۔

جبکہ اس کے برعکس امریکہ کا ایک مقامی ٹیٹ ورک AOL یا امریکہ آن لائن ہے جو پیغام رسانی کے لیے بہت استعمال ہوتا ہے، تاہم اس کے صرف ڈھائی کروڑ صارفین ہیں۔

مقامی نیٹ ورک ’ٹینسینٹ‘ کی اہمیت

ٹینسینٹ ٹیٹ ورک ہانگ کانگ کے ایک ساحلی شہر شین زان میں قائم ہے، چین نے اس شہر کو اسی کے عشرے میں یہاں کی معیشت کو خصوصی درجہ دیا تھا۔ جو ایک طرح سے سرمادارانہ نظام کا ایک تجربہ تھا۔

گزشتہ ماہ چین کے صدر اپنے اس تجربے کی تیسویں سالگرہ منانے کے لیے خود شین زان آئے تو سب سے پہلے ٹینسینٹ گئے۔

گویا شین زان کا معاشی نظام جو تجربے کے طور پر شروع کیا گیا تھا اب چین کے لیے ایک ماڈل بن گیا ہے۔

ترقی پذیر ملکوں میں انٹر ٹیٹ کے ڈھانچے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ مثال کے طور پر ٹینسینٹ میں پینتیس فیصد شیئرز جنوبی افریقہ کی ایک میڈیا کمپنی ’ناسپرز‘ کے ہیں، جبکہ ناسپرز اور ٹینسینٹ دونوں نے ملکر کر ایک بڑا ٹیٹ ورک ’آبیبو‘ قائم کیا ہے۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں مسابقت اور چیلینجز

مگر ایسا نہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کے نیٹ ورک ان مارکیٹوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں بلکہ وہ ہرطریقے سے اور سب خصوصاً ترقی پذیر بڑی منڈیوں اپنا تسلط چاہتے ہیں۔

ا سی سلسلے میں جولائی میں فیس بک نے بھارت کے تجارتی شہر حیدر آباد میں ایک نیا دفتر قائم کرکے گوگل کا مقامی نیٹ ورک ’اور کٹ‘ خرید لیا تاکہ بھارت میں وہ سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک بن جائے۔ یہاں اس کا مقابلہ بڑے سماجی ٹیٹ ورک آبیبو سے ہے۔

فیس بک اور آئی بیبو میں مسابقت کا مستقبل کیا ہوگا یہ تو ابھی دیکھنا ہوگا۔

تاہم آبیبو کے کاشیاب کہتے ہیں کہ صارفین مقامی نیٹ ورک سے خریداری اور گیمز وغیرہ کے معاملے میں زیادہ قربت اور بے تکلفی محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں