دریائی مچھلی: ’قوت بخش غذا کا ذریعہ‘

Image caption لیکن دریا اور جھیل سے مچھلیاں پکڑنا آسان ہے بہ نسبت سمندر کے اس لیے ذریعہ معاش بنانا بھی آسان ہے۔

اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سمندر کی مچھلیوں کے مقابلے میں دریا اور جھیل کی مچھلیاں کہیں زیادہ افراد کا ذریعہ معاش ہیں اور قوت بخش غذا کا بھی ذریعہ ہیں۔

بلیو ہاروسٹ تحقیق کے مطابق صرف افریقہ میں دریا اور جھیل کی مچھلیاں ایک سو ملین افراد کو قوت سے بھرپور غذا فراہم کرتی ہیں۔

تاہم ڈیمز اور دیگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے طریقوں نے مچھلیوں میں کمی کی ہے باالخصوص یورپ میں۔

اس تحقیق کے مطابق دریا اور جھیل کی مچھلیوں کی تعداد تیرہ سے تیس ملین ٹن سالانہ ہے۔ تاہم سمندر سے حاصل کرنے والی مچھلیوں کی تعداد پچاس ملین ٹن سالانہ ہے۔

لیکن دریا اور جھیل سے مچھلیاں پکڑنا آسان ہے بہ نسبت سمندر کے اس لیے ذریعہ معاش بنانا بھی آسان ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تحقیق پہلی بار کی گئی ہے اور اس کا مقصد دنیا بھر سے دریا اور جھیلوں کی مچھلیوں کی معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشم سٹائنر کا کہنا ہے ’اس رپورٹ میں اکثر نظر انداز کیے جانے والے تازہ پانی کی مچھلیوں کے بارے میں معلومات کو منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔‘

’سمندر کی مچھلیوں پر کئی رپورٹیں کی گئی ہیں لیکن تازہ پانی کی مچھلیوں کو عالمی سطح پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اور اس کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

سمندر کی مچھلیوں پر عالمی توجہ کے باعث حکومتوں اور ماہی گیروں نے اس بات پر توجہ دی کہ کیسے سمندری مچھلیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات لیے جائیں۔

لیکن تازہ پانی کی مچھلیوں کا مسئلہ کچھ پیچیدہ ہے۔ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کیے جانے والے ڈیمز وغیرہ مچھلیوں کے لیے باعثِ نقصان ہیں۔ اس کے علاوہ آبادی اور صنعتوں کی آلودگی بھی تازہ پانی کی مچھلیوں کے لیے باعث نقصان ہے۔

اسی بارے میں