چاند پر پانی کا ’ کارآمد ذخیرہ‘

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق چاند پر مٹی میں پانی کی بڑی مقدار ہے جس کے بنا پر خلا باز چاند پر رہ سکتے ہیں۔

ناسا کے سائنسدان اس نتیجے پر اس تجربے کی معلومات حاصل کر کے پہنچ پائے ہیں جس تجربے میں چاند پر موجود ایک گڑھے میں راکٹ بھیجا گیا تھا۔

اس تجربے میں راکٹ کو چاند پر پڑے گڑھے میں داغا گیا جس کے باعث پتھر اور دھول اپنی جگہ سے ہٹ گئی۔ پتھر اور دھول ہٹنے سے خاص کیمیائی مرکب نظر آیا اور اس کے ساتھ ہی مٹی میں پانی کی مقدار اتنی زیادہ ملی جس کے بارے میں پہلے معلومات نہیں تھیں۔

ناسا کی ٹیم نے سائنس جریدے کو بتایا کہ راکٹ کے لگنے سے ایک سو پچپن کلو پانی کے بخارات اور پانی سے بننے والی برف گڑھے سے نکلی۔

ناسا کے مطابق چاند کی مٹی میں پانی سے بنی برف پانچ فیصد تک ہونی چاہیے۔

امریکی خلائی ایجنسی کے ایمس ریسرچ سینٹر کے اینتھونی نے بتایا ’پانی کی یہ مقدار بہت زیادہ ہے اور یہ پانی کی برف کے دانوں کی صورت میں ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے، اس کو زیادہ گرم نہیں کرنا پڑتا۔ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ پانی کی برف کو کمرے کے درجہ حرارت پر لے آؤ اور پھر اس کو با آسانی مٹی سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’پانچ فیصد کے حساب سے ایک ٹن مٹی میں سے گیارہ سے بارہ گیلن پانی نکالا جا سکتا ہے۔‘

ناسا کی سربراہی میں ٹیم نے امریکی جریدے میں نو اکتوبر دو ہزار نو کے خلائی جہاز اور راکٹ کے تجربے کے بارے میں چھ تحقیقات شائع کی ہیں۔

واضح رہے کہ چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد میں پچھلے کئی سالوں سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں وہاں پر برف ملی اور چند ماہ قبل بھارت کے چندریان سیٹلائٹ سمیت تین مصنوعی سیاروں سے ملنے والی معلومات سے چاند کی سطح میں پانی کے قطروں کا پتہ چلا تھا۔

اکتوبر میں ناسا نے چاند کی سطح سے دو راکٹ ٹکرائے تھے۔ پہلے راکٹ نے ٹکرانے کے بعد گرد و غبار اڑایا اور اس کے کچھ دیر بعد دوسرے راکٹ نے معلومات اکٹھی کر کے زمین پر بھیجیں اور خود بھی چاند سے جا ٹکرایا۔

ان معلومات کے مطالعے کے بعد ناسا کا کہنا ہے کہ چاند پر قطروں یا برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کی شکل میں ہی نہیں بلکہ پانی کی بڑی مقدار میں موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

اسی بارے میں