حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پرمعاہدہ مشکل

فائل فوٹو
Image caption بہت سے نادر جاندار ختم ہوتے جارہے ہیں

قدرتی وسائل اور حیاتیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا کہ بعض حکومتیں اپنے مفاد کے لیے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں رخنہ ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔

ماہرین نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب حیاتیاتی تنوع یا ’بائیولوجیکل ڈائیورسٹی‘ کے مسائل پر جاپان کے شہر نگویا میں اقوام متحدہ کا کنونشن چل رہا ہے۔

حیاتیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران تحفظ کے لیے بعض ممالک نے بہت ہی کمزور تجاویز پیش کی ہیں۔

’برڈ لائف انٹرنیشنل‘ میں پالیسی کے مشیر مہتاری امینو کانو کا کہنا تھا کہ ’سب سے زیادہ پر امدی تجزیہ یہی ہے کہ ہم کسی معاہدے کی طرف پیش رفت نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں تعطل کو دور کرنے کے لیے جس سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے وہ بہت سے وفود نہیں دکھا رہے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ آپ کی ہر روز کی کہانی ہے، یہ وہی کہ لوگ بائیوڈائیورسٹی کی اہمیت سے زیادہ اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

اس سے پہلے دو ہزار دو میں یہ ہدف رکھا گیا تھا کہ دو ہزار دس تک بائیو ڈائیورسٹی کو پہنچنے والے نقصان کو تیزی سے کم کیا جائیگا لیکن اس میں پوری طرح ناکامی ہوئی ہے۔

اس میٹنگ میں جس مسودے پر بحث ہورہی ہے اس میں ایسے بیس اہداف کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں بچانے کی ضرورت ہے۔

لیکن اس مسئلے پر دو دھڑوں میں کافی اختلافات ہیں۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار بیس تک بائیوڈائیورسٹی کے نقصان کو پوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔

ایک دوسرے مسودے میں اس بات کی وکالت کی گئی ہے کہ بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ کے لیے عالمی امدادا میں سو گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر یہ رقم صنعتی ممالک سے حاصل کی جائیگی اور اسے ترقی پذیر ممالک میں خرچ کیا جائیگی۔

مغربی ممالک کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ وہ پودوں، مویشیوں اور ان چیزوں کا تحفظ چاہتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہے۔

جبکہ ترقی پذیر ممالک کو عمومی طور پر اس بات کی تشویش ہے کہ عالمی سطح پر اس کی فنڈنگ کیسے ہو۔ وہ اس بات پر معاہدہ ایک منصفانہ معاہدہ کے حق میں ہیں جس سے زمین پر موجود قدرتی وسائل پر سب کا برار کا حق ہو۔

تاہم ان اختلافات کے سبب اس بارے میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے امکانات ابھی کم ہی نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں