انسانی ڈی این اے کی فہرستیں

انسانی ڈی این اے میں پائے جانے والے فرق کی فہرستیں تیار کرنے کے پراجیکٹ کے سرکردہ ارکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سلسلہ کا پچانوے فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔

’ایک ہزار جینوم پراجیکٹ‘ نامی اس منصوبے کا مقصد دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اڑہائی ہزار افراد کے ڈی این اے کے آپس میں پائے جانے والے فرق کی فہرست تیار کرنا اور ان کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔

اس تجزیئے سے حاصل ہونے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسطً ایک شخص کے ڈیی این اے میں پچہتر فرق پائے جاتے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہونے والی پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والے ابتدائئ تجزیئے سے انسانی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں نئی معلومات کے حصول کے دورازے کھل گئے ہیں۔

ایک ہزار جرنومز پراجیکٹ سرکاری اور نجی اشتراک سے چلائے جانے والا پراجیکٹ ہے جس میں صرف ایک فرد کے ڈی این اے کا نقشہ بنانا نہیں ہے بلکہ اس سے ہزاروں جرنومز کی فہرست تیار کرنا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس فہرست کے ذریعے ڈی این اے میں پائے جانے والے فرق تلاش کرنا اور ان کی فہرست تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ کچھ لوگوں میں موروثی بیماریوں کے پائے جانے کے امکانات کیوں زیادہ ہوتے ہیں۔

ویلکم ٹرسٹ سانگر انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر رچرڈ ڈربن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اور ڈین اے این کی ترتیب معلوم کرنے پر ہونے والے خرچ میں کمی کی وجہ یہ ممکن ہوا ہے۔

گزشتہ دس سال میں ڈی این اے کی ترتیب معلوم کرنے کی ٹیکنالوجی میں ترقی نے یہ ممکن بنایا ہے۔

اس میں تین کروڑ کے قریب بنیادی جوڑے ایک فرد سے دوسرے فرد میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ و نیکلٹائڈ پالیمارفمزم یا ایس این پیز ہیں جن کی سائسندان نشاندھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ انھوں نے انسانوں میں پائے جانے والے پچانوے فیصد ایس این پیز کی فہرست تیار کر لی ہے۔

ڈاکٹر ڈربن کا کہنا ہے کہ تجرباتی مرحلے میں انھوں نے ایک سو نواسی افراد کے مشاہدے سے پندرہ لاکھ کے قریب جنیاتی فرق کی نشاندھی کر لی ہے۔

ان میں آدھے سے زیادہ ایسے ہیں جن کے بارے میں پہلے معلوم نہیں تھا۔