ماحول کو بچانے کا ورلڈ بینک کا پروگرام

Image caption ورلڈ بینک ماحولیات کو بہت اہمیت دے رہا ہے

ورلڈ بینک نے عالمی اشتراک سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد مختلف ممالک کو ماحولیات کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے قومی بجٹ میں رقم مختص کرنے میں مدد کرنا ہے۔

تجرباتی طور پر شروع کیے جانے والے اس اشتراک میں ابتدائی طور پر دس ملک شامل جن میں انڈیا اور کولمبیا کے نام بھی ہیں۔

بینک کے صدر رابرٹ زوئلک کا کہنا ہے کہ عالمی ماحولیات کے تباہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی کہ حکومتیں قدرتی ماحول کی قدر نہیں کرتیں۔

یہ عالمی اشتراک شروع کرنے کا فیصلہ جاپان کے شہر ناگویا میں نباتاتی تنوع پر ہونے والے اقوام متحدہ کے کنوینشن میں کیا گیا۔

رابرٹ زوئیلک کا کہنا ہے انسان کی بقا کا انحصار قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع پر ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا اس کی وجہ قدرتی ماحول کی ناقدری ہے اور اس کا حل پالیسیاں بناتے ہوئے اس کا پورا پورا خیال رکھنا ہے۔

ناروے کے وزیر ماحولیات ائیرک شلوم نے کہا کہ ماحول کی قدر کا اس طرح از سر نو اندازہ لگانے سے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہو گا۔

انھوں نے کہ ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کی قیمت ان لوگوں کو پوری کرنا ہو گی جن کو ماحول پر پڑنے والے ان منفی اثرات سے فائدہ پہنچ رہا ہو گا۔

ورلڈ بینک کے نئے پروگرام کا مقصد حال ہی میں ماحولیات اور حیاتیات کی اقتصادیات پر کیے جانے والے ایک پراجیکٹ کے نتائج اخذ کرکے حکومتوں کو انھیں اپنی قومی پالیسیوں میں شامل کرنے میں مدد کرنا ہے۔

ماحول اور حیاتیات کی اقتصادیات پر کیے جانے والے اس پراجیکٹ کا تخمینہ تھا کہ ماحولیاتی آلودگی سے عالمی معیشت کو دو سے پانچ کھرب ڈالر یا ایک سے تین ارب پاونّڈ سالانہ کا نقصان پہنچ رہا ہے ۔

.اس رپوٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی، زمین کی ذرخیزی ، زیرگی اور ان جیسے بہت سے قدرتی عوامل کی قدر اور اہمیت کو پالیسی ساز اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر ماحولیات کا کرولین سپیلمین کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ نے حیاتاتی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک بات بہت واضح ہے کہ ہمیں قدرتی ماحول کے بارے میں اپنے رویئے کو بدلنا اور اس کو اپنی پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنا ہو گا۔

ناروے اور برطانیہ کے ماحولیات کے وزراء نے عندیہ دیا کہ ان کی حکومتیں نئے پروگرام کی پوری طرح حمایت کریں گی۔

اقوام متحدہ کے ماحولیات کے پروگرام کے ڈائریکٹر اچم سٹائنر نے کہا کہ ایک تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں اب دہشت گردی سے زیادہ ماحولیات سے ہونے والے نقصان کو خطرناک سمجھتی ہیں۔