نیند کی کمی، ملنسار لوگ زیادہ متاثر

نیند
Image caption خاموش طبع لوگوں کو نیند کی کمی نے اتنا زیادہ متاثر نہیں کیا جتنا باتونی لوگوں کومتاثر کیا۔

امریکی فوجی تحقیق کاروں کے مطابق نیند کی کمی خاموش طبع لوگوں کے مقابلے ملنسار یا باتونی لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔

اس تحقیق میں 48 لوگ 36 گھنٹوں تک جاگتے رہے اور ان میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے دیا گیا۔ان میں جو لوگ خاموش طبع تھے انہیں جاگنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کے بعد اس سلسلے میں ہونے والے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

تجربے کے دوران 18 سے 39 سال کی عمر کے لوگوں کے گروپ بنائے گئےجن میں ایک گروپ خاموش طبع لوگوں کا تھا اور ایک باتونی اور ملنسار لوگوں کا اور انہیں ایک رات کی مکمل نیند کے بعد ڈیڑھ دن تک جگا کر رکھا گیا۔

دونوں ہی طرح کے لوگوں کو بارہ گھنٹے مختلف قسم کے گیمز کرائے گئے اور ساتھ ہی نیند کی کمی کے اثرات جاننے کے لیے ان کے ٹیسٹ بھی ہوئے۔

جن باتونی لوگوں کو دوسروں سے ملنے جلنے نہیں دیا گیا انہیں بھی جاگنے میں دشواری نہیں ہوئی جس سے یہ بات سامنے آئی کہ حالانکہ وہ ملنسار لوگ تھے لیکن الگ تھلگ رکھے جانے کے سبب ان کے دماغ کے وہ حصے نہیں تھکے جو الرٹ رہنے میں مدد کرتے ہیں۔

مختلف ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی کے خاموش طبع لوگوں کو نیند کی کمی نے اتنا زیادہ متاثر نہیں کیا جتنا باتونی لوگوں کومتاثر کیا۔

میری لینڈ میں والٹر ریڈ آرمی انسٹی ٹیوٹ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی کاموں اور ذمہ داریوں کو نبھانے میں جن میں گھنٹوں تک جاگتے رہنا بھی شامل ہے صرف شخصیت ہی اہم رول ادا نہیں کرتی بلکہ شفٹ کا نظام بھی خاصا اہم ہوتا ہے جو دماغ کے حصوں کو متاثر کرتا ہے۔

اسی بارے میں