ورزش نزلے سے ’بچا‘ سکتی ہے

نزلہ زکام
Image caption ورزش کرنے سے نزلے زکام کے امکانات کام ہو جاتے ہیں

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں انہیں نزلہ زکام کم ہوتا ہے۔

ایک ہزار افراد پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق جو لوگ ’اکٹیو‘ یا متحرک زندگی گزارتے ہیں ان میں نزلے زکام کا وائرس لگنے کے امکانات آدھے ہو جاتے ہیں۔

ماہرین نے برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ورزش جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو بہت سی ورزش کرنا ہے۔ جو افراد فٹ ہیں ان میں بھی اس کا رسک کم ہوتا ہے۔

بالغ افراد کو نزلہ زکام سال میں دو سے پانچ مرتبہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ نے کس طرح کا طرز زندگی گزارنا ہے۔ ایسا کہ آپ کو یہ (نزلہ زکام) بالکل نہ ہو یا پھر ایسا کہ آپ اس میں بری طرح مبتلا رہیں۔

اس تحقیق کے لیے امریکی ماہرین نے تندرست رضاکاروں سے کہا کہ وہ اپنے پاس اس بات کا ریکارڈ رکھیں کہ انہیں موسمِ سرما اور خزاں کے دوران تین ماہ کے عرصے میں کتنی مرتبہ کھانسی یا نزلہ ہوا۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس دوران کسی بھی ہفتے میں انہوں نے کتنی مرتبہ بیس منٹ سے زیادہ ورزش کی جس سے انہیں کم از کم پسینہ آیا ہو۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ عمر، مرد اور شادی شدہ ہونے سے نزلے کی فریکوینسی کم ہو جاتی ہے۔ یہی حال زیادہ پھل کھانے سے بھی ہوتا ہے۔

لیکن جو سب سے اہم چیز دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ کون کتنی ورزش کرتا تھا یا اپنے آپ کو فٹ محسوس کرتا تھا۔

فٹ محسوس کرنے اور متحرک زندگی گزارنے سے نزلے زکام کے پچاس فیصد امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں