’ کسی اپنے کی موت کا اثر دل پر‘

Image caption غمزدہ افراد کو صحت بہتر بنانے کے لیے ورزش اور سماجی روابط کا سہارا لینا چاہیے۔

ایک تحقیق کے مطابق کسی قریبی عزیز کی موت کا غم دل دھڑکنے کی رفتار میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے اور ایسے غمزدہ افراد میں دل سے متعلقہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی میں کی جانے والی اس تحقیق میں اٹھہتر ایسے مرد و زن کا جائزہ لیا گیا جنہیں اپنے جیون ساتھی یا والدین کی موت کا صدمہ سہنا پڑا تھا۔

تحقیق کے دوران ایسے افراد سے چوبیس گھنٹے دل کی دھڑکن ماپنے والا آلہ پہننے کو کہا گیا جن کے رشتہ دار دو ہفتے قبل انتقال کر گئے تھے۔

ان غمزدہ افراد کے دل کی رفتار ایسے افراد سے تیز پائی گئی جنہیں یہ صدمہ نہیں پہنچا تھا۔ غمزدہ افراد کے دل اوسطاً ایک منٹ میں پچھہتر بار دھڑکے جبکہ دیگر افراد کی فی منٹ دھڑکن کی رفتار ستر اعشاریہ سات تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ٹامس بکلے کا کہنا ہے کہ دل کی اتنی تیز دھڑکن ایسے افراد کے لیے دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے جو پہلے سے دل کی بیماری کا شکار ہیں۔

ان کے مطابق اس تحقیق سے ایسے غمزدہ افراد کو مدد ملے گی جو پہلے سے دل کی بیماری کا شکار ہیں اور انہیں ایسی صورت میں طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ موت کے چھ ماہ بعد غمزدہ لواحقین کے دل کی دھڑکن معمول پر واپس آ گئی۔

نیویارک یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رچرڈ سٹین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کو جاننے کے سلسلے میں ’پہلا اہم قدم‘ ہے کہ کسی قریبی عزیز کی موت آپ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے غمزدہ افراد کو صحت بہتر بنانے کے لیے ورزش اور سماجی روابط کا سہارا لینا چاہیے۔