بالواسطہ تمباکو نوشی،سالانہ چھ لاکھ اموات

Image caption بالواسطہ تمباکو نوشی سے بچے اور خواتین زیادہ متاثر ہوتے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارے برائے صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک تحقیق کے مطابق بالواسطہ تمباکو نوشی سے ہر سال چھ لاکھ افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

بالواسطہ تمباکو نوشی کے حوالے سے عالمی سطح پر کی جانے والی یہ پہلی تحقیق ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے جو عام طور پر گھروں میں بالواسطہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔

ایک سو بانوے ممالک میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق بلا ارادہ تمباکو نوشی سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے شعبے ’تمباکو سے پاک آغاز‘ جس نے یہ تحقیق کی ہے کے اہلکار آرمینڈو پیروگا نے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے تمباکو کے اصل نقصان کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ چھوت کی بیماریوں اور بالواسطہ تمباکو نوشی کا ملنا ایک خطرناک ملاپ ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انھیں خاص طور پر ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچوں کی تمباکو نوشی سے وابستہ تنفس کے ذریعے لگنے والی بیماریوں سے ہلاکت پر تشویش ہے۔

ادارے کے مطابق زیادہ تر بچے جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے بچے جو بلا ارادہ تمباکو نوشی کے ماحول میں سانس لیتے ہیں ان کے پھیپھڑوں کی افزائش ایسے بچوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو تمباکو سے پاک ماحول میں سانس لیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سال دو ہزار چار میں دنیا بھر میں بالواسطہ تمباکو نوشی کی وجہ سے چالیس فیصد بچے، تینتیس فیصد مرد اور پینتیس فیصد خواتین متاثر ہوئی تھیں۔

اس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق دل کی بیماریوں سے تین لاکھ اناسی ہزار اموات، کم تنفیس کے ذریعے لاحق ہونے والی بیماریوں سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار، دمے سے چھتیس ہزار نو سو اور پھیپھڑوں کے کینسر سے اکیس ہزار چار سو اموات ہوئیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ بالواسطہ تمباکو نوشی کی وجہ سے خواتین بھی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں دو لاکھ اکیاسی ہزار اموات ہوئیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دنیا کے بہت سارے خطوں میں بالوسطہ تمباکو نوشی کی وجہ سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کے پچاس فیصد زیادہ متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں