قدیم کہکشائیں:’ زمین جیسی کھربوں دنیائیں‘

Image caption سرخ آسمان رات کو: تصویر کے بائیں جانب ایک سیارے سے ہماری کہکشاں کا ایک منظر لیکن دائیں جانب قدیم کہکشاؤں کا ایک منظر جوسرخ ستاروں سے بھری پڑی ہیں۔( ایک فن کار کا تصور)

ماہر فلکیات کی ایک تحقیق کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کائنات میں موجودہ سوچ سے تین گناہ زیادہ سٹارز یا ستارے موجود ہوں۔

یہ اندازہ ایک نئے مشاہدے میں لگایا گیا ہے جس کے مطابق ہو سکتا ہے کہ دوسری کہکشاؤں کی ہماری کہکشاں ملکی وے سے ساخت مختلف ہو۔

محققین نے جریدے دی جرنل نیچر کو بتایا کہ زیادہ ستارے ہونے کا مطلب ہو سکتا ہے کہ شاید اور بہت زیادہ سیارے ہوں، جیسے کہ ’ زمین جیسی کھربوں دنیائیں‘۔

ییل یونیورسٹی کی قیادت میں کئی گئی اس تحقیق میں امریکی ریاست ہوائی میں نصب دوربین کِک کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم کہکشاؤں میں بیس گنا سرخ چھوٹے مگر ٹھوس ستارے موجود ہیں۔

یہ ستارے ہمارے سورج کے مقابلے میں مدھم اور چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی نشاندہی کے لیے دوربینوں کا کافی طاقت ورر ہونا ضروری ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ ییل یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر وین ڈوکم کا کہنا ہے کہ ’ دریافت کی وجہ سے کائنات میں سیاروں کی تعداد کا اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے اور کائنات میں زندگی کی موجودگی کے امکانات میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ یہ ممکن ہے کہ کھربوں دنیائیں ان ستاروں کے مدار میں گردش کر رہی ہوں، یہ سرخ ستارے عام طور پر دس ارب سال پرانے ہوتے ہیں جو ان کے گرد سیاروں پر پیچیدہ زندگی کا قدرتی عمل شروع ہونے کے لیے کافی ہے، اور یہ ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی اس قسم کے سیاروں میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں