سپیم میل: روسی ملزم کا صحت جرم سے انکار

Image caption استغاثہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمپیوٹر ہر روز دس ارب سپیم ای میلیں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے تھے

سپیم ای میلوں کا عالمی دھندہ کرنے کے ملزم روسی شہری نے امریکی ریاست وِسکونسن کی ایک عدالت کے سامنے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

روسی شہری اولیگ نکولینکو پر الزام ہے کہ انہوں نے سپیم سے متعلق امریکی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وائرس سے متاثرہ پانچ لاکھ کمپیوٹروں کی مدد سے سپیم کا ایک عالمی سطح کا دھندہ کیا۔

نکولینکو نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ اسے مقدمے کے فیصلے تک نظر بند رکھنے کا حکم دے۔ تاہم عدالت نے یہ کہتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا کہ عدالت کو خطرہ ہے کہ وہ فرار ہو جائیں گے۔

استغاثہ کی وکیل ایریکا اونیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک روسی شہری ہیں اور حکومت سمجھتی ہے کہ اگر انہیں رہا کیا گیا تو وہ روس چلے جائیں گے اور اس صورت میں ایک پر مقدمہ چلانا مشکل ہوگا۔

اولیگ نکولینکو نے سپیم کا جو نیٹ ورک چلایا اسے بوٹ نیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے عام لوگوں کے وائرس سے متاثرہ کمپیوٹروں سے اربوں کے حساب سے سپیم ای میلیں دنیا بھر میں بھیجی جاتی تھیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمپیوٹر ہر روز دس ارب سپیم ای میلیں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک موقع اولیگ نکولینکو کا نیٹ ورک اتنا فعال تھا کہ دنیا بھر میں بھیجی جانے والی ہر تیسری میل اس نیٹ ورک سے بھیجی جا رہی تھی۔

اسی بارے میں