ایشیائی نژاد افراد میں ذیابیطس زیادہ

Image caption ذیابیطس یو کے کی ڈاکٹر وکٹوریا کنگ کا کہنا ہے کہ اس وقت سامنے آنے والے نتائج مستقبل میں اس طرح کی تحقیق کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

حالیہ تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں میں ٹائپ ٹو ذیا بیطس کے کیس سامنے آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

گلاسکو یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی نژاد افراد کے پٹھے ایسے ہوتے ہیں جو یورپی باشندوں کی نسبت کم چکنائی کو استعمال میں لاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ سے ایشیائی افراد کے پٹھوں کے چکنائی اور چربی کم جلانے کی وجہ سے ان میں ذیابیطس کی بیماری ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق سے پہلے ہی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مغربی ملکوں میں بسنے والے ایشیائی نژاد افراد میں موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیا بیطس ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اب تک یہ ہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ ایشیائی نژاد افراد میں شوگر کی مرض زیادہ عام ہونی کی وجہ موٹاپا ہے لیکن صرف اس ایک محرک کی وجہ سے ان میں دیگر یورپی پاشندوں کے مقابلے میں شوگر ہونے کے چھ گنا زیادہ امکان کو نہیں سمجھا جا سکا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جیسن گِل کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے ایسے نتائج سامنے آئے ہیں کہ ایشیائی نژاد افراد کے پٹھوں میں چکنائی کو ایندھن کی طرح جلانے کی صلاحیت یورپی افراد کی نسبت کم ہوتی ہے۔

’دوسرے لفظوں میں اگر ایک ایشیائی نژاد فرد اور ایک یورپی شخص اگر ایک جیسی ورزش کریں تو ایشیائی فرد کے پٹھے کم مقدار میں چکنائی جلائیں گے جس سے اسے ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر وہ باقاعدگی سے ورزش کریں تو وہ اس خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔

ذیابیطس یو کے کی ڈاکٹر وکٹوریا کنگ کا کہنا ہے کہ یہ تو سب کو معلوم تھا کہ ایشیائی نژاد افراد کو شوگر ہونے کا امکان دیگر برطانوی شہریوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سامنے آنے والے نتائج مستقبل میں اس طرح کی تحقیق کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والی ایک تحقیق سے سامنے آیا تھا کہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس کو کنٹرول نہ کرنے کی صورت میں ذہن پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں