میکسیکو: سربراہی اجلاس معاہدے کے قریب

فائل فوٹو
Image caption غریب ممالک کو موسمی تبدیلیوں سے نپٹنے میں مدد دینے کےلیے ایک گرین فنڈ تشکیل دیا گیا

موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے میکسیکو کے شہر کانکون میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے سربراہی میں مندوبین بظاہر ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اجلاس میں شامل متعدد مندوبین نے میزبان میکسیکو کی کاربن گیس کے اخراج میں کمی لانے کے مسودے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

بولیویا اور کیوبا نے اس مسودے کے حوالے سے کچھ اعتراضات اٹھائے ہیں تاہم ابھی یہ طے نہیں کہ وہ معاہدے کو روکنے کے لیے کچھ اقدام کریں گے۔

واضح رہے کہ معاہدے کے مسودے کے مطابق کاربن گیس کے اخراج کو کم کرنےکے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاہم اجلاس میں شریک ممالک اپنے وعدوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے کوئی طریقہِ کار واضح نہیں کر سکے۔

اجلاس نے غریب ممالک کو موسمی تبدیلیوں سے نپٹنے میں مدد دینے کےلیے ایک گرین فنڈ تشکیل دیا۔

مندوبین نے مذاکرات کے دوران حکومتوں کی تقاریر پر خوشی کا اظہار کیا یہاں تک کے جاپان، چین اور امریکہ نے بھی مسودے کی توثیق کر دی۔

مندوبین نے فنڈ کے لیے سنہ دو ہزار بیس تک ایک سو بلین ڈالر اکٹھے کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ غریب ممالک موسمی تبدیلیوں سےنپٹ سکیں۔

اجلاس میں ایک نئی کمیٹی بنائی گئی جو مختلف ممالک کی جانب سے موسمی تبدیلیوں سے نمبٹنے کےلیے بنائے جانےوالے منصوبوں کی مدد کرے گی۔

تاہم اس حوالے سے ہونے والی ممکنہ ڈیل ویسی نہیں جیسی متعد ممالک گزشتہ برس کوپن ہیگن کے سربراہی اجلاس میں کرنا چاہتے تھے۔

سینئر پالیسی ایڈوائزر تارا راؤ نے بتایا کہ ہم کوپن ہیگن سے آگے بڑھ گئے ہیں کیونکہ یہاں مختلف ماحول اور مختلف لہجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں کافی بحث ہوئی اور ہم اگلے برس جنوبی افریقہ میں ہونے والے اجلاس میں قانونی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

اسی بارے میں