’خاتون جو خوف محسوس نہیں کر سکتی‘

Image caption انسانوں میں خوف کو محسوس نہ کرنے کے حوالے سے یہ اپنی طرز کا پہلا کیس ہے

سائنسدانوں کو ایک ایسی خاتون کا پتہ چلا ہے جو دماغ میں ایک مخصوص حصے کی کمی کی وجہ سے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کر سکتی ہیں۔

اس دریافت سے سائنسدانوں کو امید ہوئی ہے کہ کسی خوفناک تجربے کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہونے والے مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک خاتون خوف کی مختلف حالات میں بلکل خوفزدہ نہیں ہوتی ہیں۔

ان میں سانپ اور مکڑیوں کا سامنا ہونا، ڈراؤنی فلمیں اور آسیب زدہ گھر میں جانا شامل ہے۔

یہ خاتون دوسرے جذبات تو محسوس کر سکتی ہیں لیکن خوف کو محسوس نہیں کر سکتی۔

انسانوں میں خوف کو محسوس نہ کرنے کے حوالے سے یہ اپنی طرز کا پہلا کیس ہے۔

لووا یونیورسٹی کے محققین کے کہنا ہے کہ خوف محسوس کرنے کی اہلیت کے نہ ہونے کی وجہ ان کے دماغ میں ایک حصہ جسے ایمگڈوا کہتے ہیں کی کمی ہے۔

دماغ کا یہ حصہ کافی عرصے سے جذبات کو سمجھنے سے حوالے سے منسوب کیا جاتا رہا ہے، اور جانوروں پر تجربات کے دوران جب دماغ کے اس حصے کو ہٹایا گیا تو انھوں نے خوف محسوس کرنا چھوڑ دیا۔

لیکن انسانوں میں پہلی مرتبہ اس کا پتہ چلا ہے۔

یہ خاتون کم عمری میں خوف محسوس کیا کرتی تھیں لیکن بالغ ہونے پر مختلف خوفزدہ کرنے والے حالات جن میں چاقو سے دھمکی دینا اور بندوق کی نوک پر روکنا شامل ہے میں خوف محسوس نہیں کیا۔

لووا یونیورسٹی کے محققین نے اس خاتون کا مشاہدہ کیا اور مختلف حالات جن میں عام لوگ خوف محسوس کرتے ہیں میں ان کا درعمل ریکارڈ کیا۔

خاتون نے بہت ساری ڈراؤنی فلمیں دیکھی، آسیب زدہ ہونے کے حوالے سے مشہور ایک گھر میں گئی اور ایک منفرد پِٹ ہاؤس لے جایا گیا جہاں مختلف خطرناک سانپوں کو قابو کیا لیکن ان کو ایک زہریلی مکھی کو ہاتھ لگانے سے منع کر دیا گیا کیونکہ اس کے کاٹنے کا بہت زیادہ خطرہ تھا۔

جب اس خاتون سے کہا گیا کہ وہ کیوں کسی ایسی چیز کو چھونا چاہتی ہیں جو کہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

اس پر خاتون نے کہا کہ ان پر تجیسس غالب آ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ جسٹن فینسٹن کا کہنا ہے کہ ’ کیونکہ ان کے دماغ میں ایمگڈوا کا حصہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اس دنیا میں خطرے کی نشاندہی اور اس سے بچنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ باعت حیرت ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔‘

کنگز کالج کے ایڈم پرکنز جو خوف اور بے چینی کی بنیادی وجوہات پر تحقیق کرنے کے ماہر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق دلچسپ ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایمگڈوا خوف کی اعصابی سیٹ ہے جو خاص طور پر عام جذبات کے برعکس خوف کا احساس پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ خاتون پر تحقیق کی وجہ سے یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ کس طرح دماغ خوف پیدا کرتا ہے۔

اس وجہ سے کسی خوفناک تجربے کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہونے والے مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

ان میں ایسے فوجی بھی شامل ہیں جو مختلف جنگ زدہ علاقوں میں تعینات ہیں اور خوف نے ان کی زندگیوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔

اسی بارے میں