مرغابی: ایک سال، چھ ہزار کلومیٹر

Image caption یہ مرغابی ان تئیس مرغابیوں میں سے ایک تھی جس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

ہانگ کانگ میں جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مرغابی جس کے ساتھ ٹریکنگ کا آلہ نصب تھا سال میں چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے واپس ہانگ کانگ پہنچ گئی ہے۔

ایک سال کے دوران مرغابی نے ہانگ کانگ سے منطقہ قطب شمالی اور ایک دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے ہانگ کانگ تک واپسی کا سفر طے کیا تھا۔

مرغابی جمعہ کے روز ہانگ کانگ کے مائی پو کے نیچر ریزرو میں دیکھی گئی۔

یہ مرغابی ان تئیس مرغابیوں میں سے ایک تھی جس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

ان میں سے ایک مرغابی نے ایک موقع پر ایک سو چودہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑان بھری تھی۔

ایک اور مرغابی کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب، اس پر لگائے گئے آلے کے مطابق، وہ روس میں ایک شکاری کے گھر کے اوپر سے گزر رہی تھی۔

مائی پو کی مینیجر بینا سمتھ کا کہنا ہے کہ اس نسل کی مرغابی عام طور پر پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتی ہے لیکن انہوں نے ان میں سے ایک مرغابی کو ایک سو چودہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتے ہوئے ریکارڈ کیا ہے۔

اس ریسرچ کے ذریعے ڈبلیو ڈبلیو ایف اور اس کے پارٹنر جیولوجیکل سروے کے ماہرین نہ صرف مرغابی کی نقل مکانی بلکہ ایویان بیماری پر تحقیق کر رہے تھے۔

بینا سمتھ کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز مرغابی کو چین کے مشرقی ساحل پر دیکھا گیا تھا اور چونکہ موسم خراب تھا اور یہ بات مشکل نظر آ رہی تھی کہ اگلے چند روز میں وہ ہانگ کانگ پہنچ سکے گی۔ ’لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ مرغابی کرسمس کے لیے واپس ہانگ کانگ پہنچ گئی۔‘

اسی بارے میں