’ایپ سٹور‘ کے نام پر مائکروسافٹ کا جھگڑا

Image caption ونڈوز موبائلز کے لیے مائکروسافٹ کا اپنا ایپلیکیشن سٹور ہے جبکہ گوگل اور نوکیا کے بھی اپنے اپنے ایپ سٹورز ہیں

مائکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ وہ ایپل کی اس کوشش کی مخالفت کرے گا جس کے ذریعے وہ ’ایپ سٹور‘ کے نام کو ٹریڈ مارک کرنا چاہتا ہے۔

ایپل نے آئی فون، آئی پیڈ اور میکنٹوش پر بطور ڈاؤن لوڈ سروس، اس اصطلاح (ایپ سٹور) کے لیے سنہ دو ہزار آٹھ میں درخواست دی تھی۔

لیکن مائکروسافٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس نے امریکہ کے پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس سے کہا ہے کہ وہ اس درخو است کو مسترد کر دے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح بہت زیادہ عمومی ہے اور دوسری کمپنیوں کو بھی اسے استعمال کرنے کے اجازت ہونی چاہیے۔

مائکروسافٹ کی طرف سے ایسوسی ایٹ جنرل قونصل رسل پینگ بورن نے کہا: ’ایپ سٹور، ایک ایپ سٹور ہے، جیسے شُو سٹور، شُو سٹور ہے یا کھلونوں کا سٹور کھلونوں کا سٹور ہے۔ یہ اصطلاح (ایپ سٹور) غیر معین ہے اور ایسی کمپنیاں، حکومتیں اور افراد جو ایپس کی پیشکش کرتی ہیں، اس اصطلاح کو استعمال کرتی ہیں۔ لہذا ایپ سٹور کی اصطلاح، ایپل کے خوف کے بغیر استعمال کے لیے دوسروں کو بھی دستیاب ہونی چاہیے‘۔

مائکروسافٹ نے یہ درخواست ایپل کی طرف سے کمپیوٹر سافٹ ویر کے لیے ایپ سٹور کے تازہ ترین آغاز کے چند دن بعد دی ہے۔

حالیہ برسوں میں جب سے آئی فون اور دیگر جدید موبائل فون سامنے آئے ہیں، ان پر چلنے والی ایپس جنھیں آن لان سٹورز سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے، عام ہوگئیں ہیں۔

Image caption ٹریڈ مارک پر تنازعات میں ایپل کا نام آنا نیا نہیں ہے

ونڈوز کے موبائل فونز کے لیے مائکروسافٹ کا اپنا ایپلیکیشن سٹور ہے جبکہ گوگل اور نوکیا کے بھی اپنے اپنے ایپ سٹورز ہیں۔ ایمزون نے بھی حال ہی میں اپنا ایپ سٹور کھولنے کا اعلان کیا ہے جسے ایمزون ایپ سٹور کہا جائے گا۔

ایپل نے اس صورتِ حال پر درخواست کے باوجود کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا لیکن ٹریڈ مارک کے مسئلے پر ایپل کا تنازع میں پڑنا نیا نہیں ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں جب آئی فون مارکیٹ میں آیا تو یہ کہا گیا کہ ایپل کا حریف سیسکو اس ٹریڈ مارک کا پہلے سے مالک تھا جو انٹرنیٹ والے ٹیلی فونز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دونوں کمپنیاں بالآخر اس کے نام پر حقوق کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے پر راضی ہوگئیں۔

اس کے علاوہ ریاست کیلی فورنیا کی ایک کمپنی کو ’ایپل کورپس‘ نامی ریکارڈ کمپنی کے ساتھ جس کی بنیاد بیٹلز پاپ گروپ نے ڈالی تھی، معاملات طے کرنے میں تیس سال لگے۔

اسی بارے میں