گرمی میں ٹھنڈی اور سردی میں گرم جیکٹ

سیاچن گلیشیئر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ جیکٹ اور جوتےسیاچن گلیشیئر میں بھارتی فوج کامیابی سے آزما چکی ہے جہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سے بھی نیچے ہوتا ہے

بھارت میں ایک شحص نے ایسے کپڑے ایجاد کیے ہیں جو گرمی میں انسانی جسم کو ٹھنڈا اور سردی میں گرم رکھیں گے۔

کرانتی کرن وستاکلا نے پہلے یہ خصوصی جیکٹ ایجاد کی اور اب وہ اسی طرز پر جوتے، سکارف اور کھانے کی پلیٹ بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کپڑوں میں ہلکے وزن کی پلاسٹک پلیٹس لگائی گئی ہیں جن میں تھرمو الیکٹرک آلہ لگایا گیا ہے۔

یہ آلہ چارج ہونے والی بیٹریوں سے چلتا ہے جسے گاڑیوں اور شمسی توانائی سے بھی چارج کیا جا سکتا ہے۔ایک مرتبہ چارج کرنے کے بعد یہ بیٹریاں آٹھ گھنٹے تک چل سکتی ہیں۔

مسٹر وستاکلا ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کے نزدیک ایک عمارت میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

مسٹر وستاکلا نے اپنی ہی بنائی ہوئی ایک جیکٹ پہن رکھی تھی باہر درجہ حرارت 40 ڈگری تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ بہت ٹھنڈے اور خوشگوار موسم میں ہیں۔

موسم کو کنٹرول کرنے والی اس جیکٹ کا وزن ایک کلوگرام ہے جسے سیاچن گلیشیئر میں بھارتی فوج کامیابی سے آزما چکی ہے جہاں درجہ حرارت 40منفی ڈگری سے بھی نیچے ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے اسی تیکنالوجی کے استعمال سے جوتے بھی بنائے ہیں اور سیاچن گلیشیئر میں فوجیوں نے ان جوتوں کو بہت پسند کیا ہے۔

مسٹر وستاکلا کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں سردی سے ہاتھ پیر گلنے کا مسئلہ عام ہے اور ان جوتوں نے اس مسئلے کو دور کرنے میں بہت مدد کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب حیدرآباد کے نزدیک ان کی فیکٹری میں بڑے پیمانے پر جیکٹیں، دستانے، سکارف، جوتے اور کانوں کو سردی سے بچانے کے کنٹوپ بنائے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں