’پاکستانی بلاگنگ برادری متحرک اور جاندار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’پاکستان میں تقریباً چونتیس لاکھ بلاگرز ہیں‘

پاکستان کی پہلی بین الاقوامی سماجی میڈیا کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ ملائیشیا ، انڈونیشیا ، مصر ، امریکہ اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد بلاگرز نے حصہ لیا ہے۔

دس اور گیارہ جون کو ’نیٹ ورک‘ نامی اس اجلاس کا انعقاد گوگل، انٹیل، کراچی میں امریکی قونصل خانے کے علاوہ متعدد مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔

کراچی میں بلاگرز کا اجتماع:تصاویر

مصر سے آئے ہوئے بلاگر محمد ال دہشان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس ایک منفرد موقع ہے جہاں ہمیں کئی اہم معاملات پر بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

اس اجلاس میں ’تعلیم اور اچھی حکومت‘ ، ’خواتین اور سماجی میڈیا ایکٹیوازم، نئے میڈیا کے دور میں‘ اور ’سماجی میڈیا کو منافع بخش بنانے کے طریقوں‘ پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ بعد ازاں مختلف موضوعات پر دس سے زائد ورکشاپس بھی منعقد کی گئٰیں جن میں مقررین نے مختلف تکنیکوں اور ان کے مسائل پر بات چیت کی۔

اجلاس کے دوران پاکستان میں سائبر کرائم آرڈیننس کے غیر موثر ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ بلاگرز کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے حکومت کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

اجلاس کے اختتامی روز خطاب کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کراچی ولیم مارٹن نے کہا کہ ’یہاں موجود لوگوں کا معاشرے میں ہونا خوش آئند ہے جو سوشل میڈیا کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں بہت متحرک اور جاندار بلاگنگ برادری ہے جہاں تیس لاکھ سے زیادہ افراد آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بحث کرتے ہیں‘۔

بی بی سی سے بات کر تے ہوئے امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے ان کا مقصد سماجی میڈیا کی طاقت کو نمایاں طور پر اجاگر کرنا ہے جہاں پاکستان اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے بلاگرز ایک پلیٹ فارم پر تبادلہ خیال کرسکیں کیونکہ بلاگنگ آزادئ اظہار کا ذریعہ ہے جو جمہوریت کے لیے بہت اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہ بلاگنگ آزادئ اظہار کا ذریعہ ہے جو جمہوریت کے لیے بہت اہم ہے:ولیم مارٹن

ولیم مارٹن نے بتایا کہ ’اس اجلاس میں ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے یہ کام ان نوجوانوں کو کرنا ہے کہ وہ اس موقع سے کیسے اور کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں ؟ اور یہ کہ ہم اسے کسی بھی طرح کنٹرول نہیں کر سکتے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں براڈ بینڈ کے پھیلاؤ کے لیے کیا جاسکتا ہے اور حکومت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ انٹرنیٹ اطلاعات کی فراہمی اور اظہار رائے کے علاوہ تجارتی لحاظ سے بھی بہت اہم ہے۔

اجلاس کے دوران منتظمین کی جانب سے پاکستان میں سماجی نیٹ ورکس اور سماجی میڈیا کے استعمال کے رجحان کے بارے میں کچھ دلچسپ اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ، جن کے مطابق پاکستان میں کم از کم دو کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں سے تقریباً چونتیس لاکھ بلاگرز ہیں جن میں سے صرف بلاگرز ڈاٹ کام پر ہی سترہ لاکھ رجسٹرڈ ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پاکستانیوں کے تینتالیس لاکھ اکاؤنٹس ہیں جن میں اڑسٹھ فیصد مرد ہیں جبکہ ٹوئٹر پاکستان کی نویں مقبول ترین ویب سائٹ ہے اور باسٹھ لاکھ پاکستانی ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں جو کہ اس ویب سائٹ کے کُل صارفین کا ایک فیصد ہے۔

اس کے علاوہ کاروباری روابط کے لیے مشہور ویب سائٹ لنکڈ ان کو پاکستان کی بارہویں مقبول ترین ویب سائٹ قرار دیا گیا ہے۔

دیگر اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت ساڑھے دس کروڑ سے زیادہ افراد موبائل استعمال کرتے ہیں جن میں سے پندرہ لاکھ افراد موبائل فون پر اب انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ براڈ بینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد سنہ 2007 کے اڑتالیس ہزار افراد کے مقابلے میں اب پندرہ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

اسی بارے میں