امریکی سگریٹ سازوں کا انتظامیہ پر مقدمہ

سگریٹ نوشی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سگریٹ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس لیبل سے اپنے صارفین کو خوف میں مبتلا کر دیں گے۔

امریکہ میں سگریٹ بنانے والی پانچ کمپنیوں نے امریکی محکمہ خوراک اور منشیات کے تدارک کے ادارے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

یہ دعوٰی اس نئے قانون کے بعد دائر کیا گیا ہے جس کے مطابق ان کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سگریٹ کے ہر پیکٹ پر اس کے مضر اثرات ظاہر کرنے کے لیے تصاویر شائع کریں۔

سگریٹ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا حکم آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کے منافی اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

منشیات کے تدارک کے لیے امریکی انتظامیہ ایف ڈی اے نے اس مقدمے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی محکمہ صحت نے سگریٹ سازوں کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ برس ستمبر تک سگریٹ کے ہر پیکٹ پر خراب ہوئے دانتوں اور بیمار زدہ پھیپھڑوں کی تصاویر شائع کریں گے۔

ان تصاویر کے شائع کرنے کا مقصد سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی بتایا جاتا ہے۔ جبکہ سگریٹ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس حکم کو آئین کے منافی قرار دلوانا چاہتے ہیں۔

سگریٹ بنانے والی کمپنیوں آر جے رینولڈز ٹوبیکو، لوریلارڈ ٹوبیکو، کامن ویلتھ برانڈز، لیگیٹ گروپ اور سانتا فے نیچرل ٹوبیکو کا کہنا ہے کہ انہوں نے منگل کی شام دیر گئے یہ مقدمہ دائر کیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اس قانون کے لاگو کیے جانے میں تاخیر کی جاسکے۔

اکتالیس صفحات پر مبنی اپنی شکایت میں ان پانچ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ نئے اشتہار سے وہ جبراً اپنے صارف کو ’پریشانی، حوصلہ شکنی اور خوف‘ میں مبتلا کر دیں گے۔

دعوٰی دائر کرنے والی کمپنیوں کے وکیل فلوئڈ ابرامز کا کہنا ہے ’حکومت کو چاہیئے کے وہ خود لوگوں کو خبردار کرے جو کہ ایک سیدھا اور غیر متنازع طریقہ ہے نہ کہ وہ سگریٹ کے پیکٹ کو ہی سگریٹ نوشی کے خلاف اپنی مہم کا اشتہار بنا دے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ لیبل کمپنیوں کے اظہارِ رائے کی آزادی کے حقوق جو کہ آئین میں دیے گئے ہیں ان کے خلاف ہے۔

امریکہ میں دو ہزار نو میں خاندان کو سگریٹ نوشی سے محفوظ رکھنے اور تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لئے منظور شدہ قانون کے مطابق سگریٹ کی ڈبی کے اوپر کے نصف حصے میں دونوں جانب لیبل چھپا ہوگا اور بیس فیصد حصے پر سگریٹ نوشی کے نقصانات سے متعلق اشتہار درج ہوں گے۔

جون میں محکمہ صحت کی سیکرٹری کیتھلین سیبیلیس نے کہا تھا کہ نئے لیبل سے نوجوان میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی جبکہ یہ بڑوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کی ترغیب دے گا۔

سگریٹ ساز کمپنیاں گزشتہ برس ایسا ہی ایک مقدمہ ضلعی عدالت میں ہار گئی تھیں جب عدالت نے ایف ڈی اے کو نئے لیبل پر عمل درآمد کروانے کی اجازت دے دی تھی۔

اسی بارے میں