کتّوں کی مدد سے کینسر کی تشخیص

سنیفر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کتے کیسنر کی سناخت کے دوران دھوئیں سے پریشان نہیں ہوتے۔

جرمنی میں محقیقین کا کہنا ہے کہ سنفرز کتّے پھیپھڑوں کے کینسر کا پتہ چلا سکتے ہیں۔

ایک طبی جریدے میں شائع رپورٹ میں ماہرین نے لکھا ہے کہ تربیت یافتہ کتّے اکہتر فیصد مریضوں میں اس بیماری کا پتہ چلا لیتے ہیں۔

تاہم سائنسدان یہ نہیں جانتے کہ یہ کتے کس کیمیائی مادے کی شناخت کرتے ہیں۔ تاہم یہ جاننا ان کے لیے ضروری ہے تاکہ اس بیماری کی تشخیص کے پروگرام کو بہتر کیا جا سکے۔

برطانیہ میں کینسر پر تحقیق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ابھی اس بابت بہت کام ہونا باقی ہے۔

پہلی مرتبہ انیس سو نواسی میں کہا گیا تھا کہ کتّے کینسر کی بیماری کو سونگھ سکتے ہیں۔ بعد میں کئی گئی تحقیق سے ثابت ہوا کہ کتّے سونگھ کر چند اقسام کے کینسر کی شناحت کر سکتے ہیں جن میں جِلد، مثانے، انتڑیوں اور چھاتی کے کینسر شامل ہیں۔

خیال ہے کہ کینسر کے زخم میں ایسے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جنہیں کتّے سونگھ کر شناخت کر لیے ہیں۔

محققین نے چار کتّوں کو کینسر کی شناخت کرنے کے لیے تربیت دی جن میں دو جرمن شیفرڈ تھے، ایک آسٹریلین شیفرڈ اور ایک لیبریڈر تھا۔

مریضوں کے تین گروہوں کی جانچ کی گئی۔ ایک سو دس لوگ صحت مند تھے، ساٹھ کو پھیپھڑوں کا کیسنر تھا، پچاس کو دائمی پلمونری مرض لاحق تھا جس میں پھیپھڑوں میں آکسیجن لے جانے والی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔

ان تمام لوگوں نے بھیڑ کی اون سے بھری ٹیوب میں سانس لیا جو یہ ہر قسم کی بُو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔

ان تربیت یافتہ کتّوں نے ٹیوبز کو سونگھا اور جس ٹیوب سے انہیں کینسر کی بو آئی وہ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔

کتّوں کے بتائے گئے نتائج ستر فیصد درست تھے۔ اس دوران محققین نے یہ بھی دکھایا کہ کتّے دائمی پلمونری مرض سے جڑے کیمیکل اور دھوئیں سے پریشان نہیں ہوتے۔

رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر تھارسٹن والز کا کہنا ہے کہ ’پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا لوگوں کی سانس میں عام لوگوں کی نسبت مختلف کیمیائی مادّے ہوتے ہیں اور کتّے اپنی سونگھنے کی تیز حس کی وجہ سے انہیں بیماری کے ابتدائی مرحلے پر ہی شناخت کر لیتے ہیں‘۔

چونکہ عموماً ڈاکٹر علاج کی غرض سے کتّوں کی مدد نہیں لیتے اس لیے ماہرین ’بجلی سے چلنے والی ناک‘ بنانے کر کوشش کر رہے ہیں جو اسی طرح سے کیمائی مادّوں کو شناخت کرنے کے قابل ہوگی جس طرح کتّا کرتا ہے۔

تاہم ابھی تک کینسر کا یہ خاص کیمیائی مادہ کو شناخت یا بُو کو پہنچانا نہیں جاسکا۔

اسی بارے میں