گرمی سے پناہ مانگتے حیوانات

’برٹش کوما‘ نامی تتلی تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption برٹش کوما نامی پہلے وسطی انگلینڈ میں پائی جاتی تھی اب جنوبی سکاٹ لینڈ میں بھی پائی جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بدلتے موسموں کے ساتھ ساتھ حیوانات اور پودوں کا سرد علاقوں میں منتقل ہونے کا عمل بھی جاری ہے۔

اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں ماہرین نے گزشتہ چالیس برسوں میں حیوانات اور پودوں کی دو ہزار اقسام پر بدلتے موسموں کے اثرات کا مطالعہ کیا۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ اس مطالعہ کے بعد وہ بدلتے موسموں اور حیوانات اور پودوں کے اپنی جگہ بدلنے کے عمل کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مثال دی کہ برٹش کوما نامی تتلی جو پہلے صرف وسطی انگلینڈ میں پائی جاتی تھی اب دو سو بیس کلومیٹر شمال میں جنوبی سکاٹ لینڈ میں بھی پائی جاتی ہے۔

اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ اقسام پہاڑوں پر بلندی کی طرف بڑھ رہی ہیں نہ کہ نیچے کی طرف۔ماہرین نے پتہ چلایا کہ مختلف نسلیں اپنا ٹھکانا اوسطاً ہر دس برس میں خط استوا سے سترہ کلومیٹر دور لے کر جا رہی ہیں۔یہ رفتار پرانے اندازوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

تاہم اس صورتحال میں ان نسلوں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے جو پہلے ہی پہاڑوں کو چوٹیوں پر اور دیگر سرد مقامات میں پائی جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ مر جاتی ہیں‘۔

انہوں نے برفانی ریچھ کی مثال دی جس کی شکارگاہوں میں برف پگھل رہی ہے اور اس کے پاس جانےکے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس برس جولائی میں آرکٹک پر تاریخ میں برف کی تہہ سب سے کم تھی۔

برطانوی ماہرین کا کہنا کہ وہ نسلیں زیادہ تیزی سے جگہ بدل رہی ہیں جنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہاں رہیں گی۔

اسی بارے میں