مرد ڈاکٹروں سے کم سوال پوچھتے ہیں

ڈاکٹروں کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جائزے میں کہا گیا ہے کہ مرد لاجواب سوال پوچھتے ہیں لیکن وہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے جھجھکتے ہیں

ایک جائزے کے مطابق مردوں کی نسبت خواتین ڈاکٹر کے پاس زیادہ جاتی اور وہ ڈاکٹروں سے سوالات پوچھنے میں مردوں کی طرح شرماتی نہیں ہیں۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ اگر مرد ڈاکٹر کے پاس جاتے بھی ہیں تو انہیں اپنی بیماری کے بارے میں بات کرنا مشکل لگتا ہے۔

یہ سروے برطانیہ کے آفس فار نیشنل سٹیٹسٹک نے کیا تھا اور اس سروے کے نتائج کے مطابق خواتین مردوں کے برعکس ڈاکٹر کے پاس زیادہ باقاعدگی سے جاتی ہیں۔

سروے کے مطابق مردوں کو طبی مسائل کے بارے میں اپنے معالج سے کھل کر بات کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔

سترہ سال سے ڈاکٹر کے طور کام کرنے والے ڈاکٹر مارک ہیملٹن نے بی بی سی کے ’مینز آور‘ پروگرام میں بتایا ہے کہ ان مشکل سوالات کے بارے میں بتایا جن کو پوچھنے میں مرد جھجھکتے ہیں اور وہ آسان سوال بھی جنہیں پوچھنا آسان ہونے کے باجود مردوں کو مشکل لگتا ہے۔

ڈاکٹر ہیملٹن کا کہنا تھا ’مرد جو بھی سوالات پوچھتے ہیں ان کا ہم ایمانداری سے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’میرے تجربے میں بعض اوقعات مرد لاجواب سوال پوچھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ سوال پوچھتے ہوئے شرماتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کے ان کے سارے سوالات سیکس اور اس سے متعلق ہوں لیکن بیشتر اسی بارے میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر سوالات پہلی بار اپنی محبوبہ کے ساتھ باہر گھومنے جاتے وقت گھبراہٹ کا شکار ہونا، اور سیکس سے متعلق ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں