شرپسندوں کی شناخت کا خودکار نظام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکیورٹی کو اتنا اختیار دینے سے لازمی ہے غلط استعمال بھی ہوئے گا: چارلز فیریر

برطانیہ میں سائنسدان ایک ایسا خفیہ کیمرہ بنا رہے ہیں جو از خود ملزموں کے حرکات و سکنات کا جائزہ لے کر ان کو پکڑنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

برطانیہ میں کنگسٹن یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نظام اختیار کیا ہے جو اپنے آپ مختلف اقسام کی حرکات و سکنات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی مشکوک شخص کا بیشتر کیمروں کی مدد سے پیچھا کیا جا سکتا ہے۔

تاہم ذاتیات کے حق میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سیاسی مظاہرین کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے لیکن ان کیمروں کو بنانے والے اس بات پر بضد ہیں کہ کیمرے صرف ملزموں کو ہی پکڑنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور بےقصور شہریوں کی ریکارڈ کی گئی تصاویر ضائع کر دی جائیں گی۔

ان کیمروں میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی، لوگوں کی حرکات و سکنات کا معائنہ کر کے کسی مشکوک صورتحال کو پہچان لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کنگسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیمز آرویل کا کہنا ہے ’فسادات کے دوران اگر کسی شخص کی بندوق دیکھ کر افراتفری مچ جائے تو یہ کیمرہ لوگوں کی ان حرکات کا پتا لگا لے گا۔‘

کسی بھی مشکوک صورتحال میں کیمرہ حادثے کے پہلے سے لے کر بعد تک ویڈیو بنا لیتا ہے۔

ڈاکٹر آرویل نے بتایا ’فرض کریں کہ اگر کوئی شخص شہر میں کسی دوکان کو لوٹنے کی نیت سے دوکان کی کھڑکی توڑتا ہے تو اس ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجرم کون تھا، کہاں سے آیا اور چوری کے بعد کس طرف گیا۔‘

اگرچہ ڈاکٹر آرویل اس بات کا اسرار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی غلط طریقے سے استعمال نہیں کی جائے گی لیکن ان کیمروں کے خلاف مہم چلانے والے ’نو سی سی ٹی وی‘ نامی گروپ کے چارلز فیریر سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی کو اتنا اختیار دینے سے لازمی ہے غلط استعمال بھی ہو گا۔

انھوں نے کہا ’صرف یہ کہہ دینا کہ ہم بےقصور شہریوں کی نگرانی نہیں کریں گے کافی نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں