’انسان بجلی پیدا کرنے کی طاقتور مشین ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جوتوں میں رکھے جانے والے ایک پرزے کے ذریعے متحرک توانائی کو بجلی کے کرنٹ میں تبدیل کیا جا سکے گا

امریکہ میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی جنبش سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف وسکنسن کی ایک ٹیم نے ’نیچر کمیونیکیشنز‘ نامی جرنل میں تحریر کیا ہے کہ جوتوں میں رکھے جانے والے ایک پرزے کے ذریعے متحرک توانائی کو بجلی کے کرنٹ میں تبدیل کیے جانے کے بعد استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

کم توانائی استعمال کرنے والی بہت سی اشیاء جیسے گھڑیاں وغیرہ پہلے ہی متحرک توانائی پر کام کرتی ہیں۔

یونیورسٹی کے میکینکل انجینیرنگ محکمے کے پروفیسر ٹوم کروپنکن کے بقول ’اگر دیکھا جائے تو انسان بجلی پیدا کرنے کی ایک بہت طاقت ور مشین ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’تیز رفتاری سے بھاگتے ہوئے انسان ایک کلو واٹ تک بجلی پیدا کر سکتا ہے۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک کلوواٹ کی بجلی کسی بھی عام موبائل فون کو چارج کرنے کے لیے کافی ہے۔

پروفیسر کروپنکن نے بتایا کہ ہلکی پھلکی بجلی پر چلنے والی اشیاء کے لیے متحرک توانائی کو کرنٹ میں تبدیل کیے جانے کا طریقۂ کار استعمال کیا جا رہا ہے لیکن سے پہلے کوئی ایسی ایجاد نہیں تھی جس کی پیداوار اتنی زیادہ ہو۔

پروفیسر کروپنکن کی ساتھی ڈاکٹر ایشلی ٹیلر نے کہا ’اب تک ہماری پہنچ کلو واٹ تک نہیں ہو پا رہی تھی اور یہی وہ توانائی کی کم سے کم حد ہے جس پر زیادہ تر بجلی سے چلنے والی اشیاء کام کرتی ہیں۔‘

واضح رہے کہ جاپان کے شہر ٹوکیو میں یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہے اور ٹرین سٹیشنوں میں زیرِ زمين ایسے بجلی پیدا کرنے والے قالین بچھائے گئے ہیں جو ہزاروں مسافروں کی قدموں کے ارتعاش سے توانائی پیدا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں