’خلیج بنگال دنیا بھر میں ہیضے کا ماخذ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہیضے کی تین بڑی وبائیں ایک ہی جگہ یعنی خلیج بنگال سے پھیلی تھیں۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں ایشیا، یورپ اور امریکہ میں گزشتہ ساٹھ برس کے دوران ہیضے کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

برطانیہ کی کیمرج یونیورسٹی کے سینگر انسٹیٹیوٹ کے محققین پر مشتمل ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیضے کے انفیکشن میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی نئی اقسام روایتی دواؤں کے سامنے مزاحمت کر رہے ہیں۔

ہیضہ انسانی آنتوں میں ہونے والا ایک ایسا انفیکشن ہے جس کی وجہ سے اسہال کی بیماری ہوتی ہے۔ دنیا کے چھپن ممالک میں ہر سال تیس سے پچاس لاکھ افراد ہیضے سے متاثر ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک سے ڈیڑھ لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

اگر ہیضے کا علاج نہ کیا جائے تو چند گھنٹوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کا علاج صاف پانی پینے سے ممکن ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر سے ہیضے کے ایک سو چوّن مریضوں سے نمونے حاصل کیے گیے اور ان نمونوں سے پتہ چلا کہ کس طرح ہیضے کی مختلف اقسام آپس میں ملتی جلتی ہیں۔

ان بیکٹریا کے جینیاتی جائزے کے بعد ہی محققین کے سامنے دنیا میں ہیضے کے پھیلاؤ کے بارے میں مکمل تصویر سامنے آئی۔

سینگر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر نک تھامسن کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ نمونہ بہت واضح تھا۔ تمام نمونے ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے اور دنیا بھر میں ہیضہ ایک ہی جگہ سے پھیل رہا ہے اور وہ جگہ خلیج بنگال کا علاقہ ہے‘۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ خلیج بنگال میں ہیضے کے جراثیم کی موجودگی کی وجہ کیا ہے۔ تاہم ہیضے کا جرثومہ کچھ سمندری ایکو سسٹم میں ضرور پرورش پاتا ہے۔