چینی رسم الخط کو جدید ٹیکنالوجی سے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چینی زبان تحریر کرنا خود ایک فن مانا جاتا ہے

چین میں سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کی لکھائی بہتر بنانے کے لیے خصوصی انتظام کریں کیونکہ کمپیوٹر اور موبائل فونز پر ایس ایم ایس کی مقبولیت کی وجہ سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

چین کی وزارتِ تعلیم کے مطابق اب چھوٹے بچوں کو ہر ہفتے خصوصی کلاسز میں چینی حروفِ تہجی کی لکھائی کروائی جائے گی جبکہ بڑے طلباء کے لیے یہ کلاسز اختیاری ہوں گی۔

حکام کے مطابق چین میں آنے والے ہفتے سے نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کلاسز کا اجراء بھی ہو سکتا ہے۔

وزارتِ تعلیم کی ویب سائٹ پر جاری شدہ نوٹس کے مطابق موبائل فونز اور کمپیوٹر کی مقبولیت سے چینی طلباء کی اپنی زبان لکھنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ نوٹس کے مطابق طلباء کو صحیح طور پر چینی زبان لکھنی آنی چاہیے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ صدیوں پرانے چینی رسم الخط کو ٹیکنالوجی سے خطرات درپیش ہیں اور نئی نسل آسانی کے لیے روایتی رسم الخط سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

چینی زبان تحریر کرنا خود ایک فن مانا جاتا ہے، مثلاً چینی زبان میں لفظ تھینک یو یا شکریہ کے لیے جو حرف استعمال کیا جاتا ہے اسے لکھنے میں قلم یا برش بارہ مرتبہ چلانا پڑتا ہے۔

اس زبان میں ہر نقطے، ہر شوشے یا نشان کا اپنا نام ہے اور انہیں صحیح ترتیب میں ہی لکھا جانا ضروری ہے۔