ناسا سے خلاء کی صفائی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملبے سے خلائی جہازوں اور خلائی سٹیشنز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ میں سائنسدانوں نے خلائی ادارے ناسا سے کہا ہے کہ وہ خلاء میں موجود فالتو اشیاء کی صفائی کرے ورنہ یہ ملبہ کسی حادثے کی وجہ بن سکتا ہے۔

نیشنل ریسرچ کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلاء میں ناکارہ بوسٹرز، پرانے سیارچے اور دیگر خلائی باقیات زمین کے مدار میں چکر لگا رہے ہیں اور یہ کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے سے ٹکرا کر اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں خلاء میں فالتو سامان کی موجودگی کی حد مقرر کرنے کے لیے نئے عالمی قوانین کی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ناسا سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس ملبے کو جمع کرنے کے لیے بڑے مقناطیسی جالوں یا بڑی چھتریوں کے ممکنہ استعمال پر بھی مزید تحقیق کرے۔

خیال رہے کہ سنہ دو ہزار نو میں بین الاقوامی خلائی مرکز کے تین رکنی عملے کو اس وقت روسی کیپسول میں پناہ لینا پڑی جب کچھ وقت کے لیے یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ خلا میں گردش کرنے والا کچھ ملبہ خلائی مرکز سے ٹکرا نہ جائے۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق خلاء میں اٹھارہ ہزار سے زائد ملبے کے ٹکڑے محوِ گردش ہیں۔ جنوری دو ہزار سات میں چین کی جانب سے اپنے ایک سیارچے کو میزائل سے تباہ کرنے کے عمل سے خلاء میں موجود ملبے کی تعداد میں کم از کم ڈھائی ہزار ٹکڑوں کا اضافہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں